سیلاب متاثرین کے لیے کیےگئے اقدامات گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیے جائیں گے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومتِ سندھ نے سیلاب متاثرین کے لیے جو مثالی اقدامات کیے، وہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے لیے ایک مثال بن چکے ہیں۔
ایک بیان میں سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لئے گھروں کی تعمیر کا کام ملکی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا، یہ سب کچھ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ویژن اور قیادت کا ثمر ہے، چیئرمین بلاول بھٹو واضح طور پر کہا تھا کہ سیلاب متاثرین کو صرف امداد نہیں، بلکہ باعزت زندگی گزارنے کے لیے مکمل گھر دیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدایات پر حکومت سندھ نے دن رات ایک کر کے متاثرہ علاقوں میں شفاف، پائیدار اور ماحول دوست گھروں کی تعمیر ممکن بنائی، یہ گھر صرف اینٹ اور سیمنٹ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ہر خاندان کے لیے نئی زندگی کی امید ہیں، گھروں میں صاف پانی، بیت الخلا، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کو بھی شامل کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ محفوظ اور باوقار زندگی گزار سکیں۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں خواتین، بچوں، بزرگوں اور معذور افراد کی ضروریات کو خاص طور پر مدنظر رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ توانائی کی جانب سے ہزاروں غریب اور متوسط خاندانوں کو سولر پینل فراہم کیے جا رہے ہیں، غریب خاندانوں کو سولر پینلز کی فراہمی کا مقصد بجلی کے مہنگے بلوں سے نجات دلانا اور اپنی ضرورت کے تحت بجلی پیدا کرنا ہے، سولر پینلز آج کے دور میں صرف متبادل توانائی کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک نئی معاشی آزادی کا راستہ ہیں۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ان گھروں کے مالکانہ حقوق خواتین کو دیئے جار ہے ہیں تاکہ ان میں تحفظ کا احساس پیدا ہو اور خواتین کو بااختیار بنایا جا سکے، یہ سب کچھ صرف حکومت سندھ کی کامیابی نہیں بلکہ سندھ کے عوام کی استقامت، اجتماعی سوچ اور عوام دوست پالیسیوں کی کامیابی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ لاکھوں خاندانوں کے لیے 21 لاکھ گھروں کی تعمیر کا ہدف ایک خواب تھا، جسے سندھ حکومت نے عزم، مسلسل محنت اور عوامی خدمت کے جذبے سے حقیقت کا روپ دیا، سندھ میں 8 لاکھ سے زائد گھر مکمل طور پر تعمیر ہو چکے ہیں، یہ کارنامہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کرنے جیسا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ پرعزم ہے کہ باقی تمام متاثرین کو بھی جلد از جلد گھر فراہم کیے جائیں، اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی بھی خاندان بے گھر نہ رہے، ہم یہ یقین سے کہتے ہیں کہ سندھ حکومت کا یہ اقدام عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جائے گا اور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہونا ہمارے اس عزم کی بین الاقوامی تصدیق ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شرجیل انعام میمن نے کہا سیلاب متاثرین نے کہا کہ سندھ کے کے لیے
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
فیفا ورلڈکپ 2026 نے باضابطہ طور پر تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ٹورنامنٹ کا اعزاز حاصل کر لیا ہے جہاں پہلی بار 48 ٹیمیں اور مجموعی طور پر 1248 کھلاڑی میدان میں اتریں گے۔
12 جون سے شروع ہونے والا یہ میگا ایونٹ امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جائے گا جو ورلڈکپ کی تاریخ میں پہلی بار تین ممالک میں منعقد ہو رہا ہے۔
اس بار ٹورنامنٹ کا فارمیٹ بھی پہلے سے بالکل مختلف ہے جہاں 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں 4 ٹیمیں شامل ہوں گی۔
مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے جس سے ایونٹ مزید طویل اور سنسنی خیز ہونے کی توقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس ورلڈکپ میں شامل 1248 کھلاڑیوں میں سے 357 ایسے ہیں جو پہلے بھی عالمی کپ کھیل چکے ہیں جبکہ 891 کھلاڑی پہلی بار اس بڑے اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے۔
مزید پڑھیںفیفا ورلڈکپ 2026 میں کیا نئی چیزیں متعارف ہوں گی؟
فیفا ورلڈکپ: میسی مسلسل چھٹے ورلڈکپ میں ارجنٹینا کی نمائندگی کیلیے تیار
فٹبال کے بڑے نام ایک بار پھر ایکشن میں ہوں گے جن میں لیونل میسی، کرسٹیانو رونالڈو اور گیلرمو اوچوا شامل ہیں جو چھٹی مرتبہ ورلڈکپ کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار چار نئے ممالک کیپ ورڈے، کوراساؤ، اردن اور ازبکستان پہلی بار ورلڈکپ کا حصہ بن رہے ہیں جس سے مقابلہ مزید غیر متوقع ہو گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس ایونٹ میں سب سے کم عمر کھلاڑی صرف 17 سال کا ہوگا جبکہ سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی 43 سال کی عمر میں میدان میں اترے گا۔
مجموعی اسکواڈ میں 7 کھلاڑی 40 سال سے زائد عمر کے ہیں جبکہ 22 انڈر 20 پلیئرز بھی اپنی ٹیموں کی نمائندگی کریں گے۔
فیفا ورلڈکپ 2026 نہ صرف تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑا ایونٹ بن چکا ہے بلکہ یہ فٹبال کی تاریخ میں ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔