امریکی اقدامات پر عمل درآمد یا اس میں مدد کرنے والی کسی بھی تنظیم یا فرد کو متعلقہ قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا ہوگا ،چینی وزارت تجارت
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
امریکی اقدامات پر عمل درآمد یا اس میں مدد کرنے والی کسی بھی تنظیم یا فرد کو متعلقہ قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا ہوگا ،چینی وزارت تجارت WhatsAppFacebookTwitter 0 21 May, 2025 سب نیوز
بیجنگ : امریکی محکمہ تجارت نے حال ہی میں امریکی برآمدی کنٹرول کی نام نہاد مبینہ خلاف ورزیوں کے بہانے عالمی سطح پر چین کی جدید کمپیوٹنگ چپس بشمول مخصوص ہواوے اسسینڈ چپس پر پابندی عائد کرنے کی کوشش میں رہنما خطوط جاری کیےہیں ۔ بدھ کے روز چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے کہا کہ یہ امریکی اقدامات یکطرفہ پسندی ، غنڈہ گردی اور تحفظ پسندی کی مثال ہیں، جو چینی کمپنیوں کے جائز حقوق و مفادات اور چین کے ترقیاتی حقوق کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں ۔
ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی اقدامات چینی کمپنیوں کے خلاف امتیازی پابندیاں عائد کرتے ہیں، لہذا کوئی بھی تنظیم یا فرد جو امریکی اقدامات پر عمل درآمد یا مدد کرے گا ، وہ چین کے انسداد غیر ملکی پابندیوں کے قانون سمیت دیگر قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا اور اس حوالے سے اسے متعلقہ قانونی کارروائیو ں کا سامنا کرنا ہو گا ۔
ترجمان نے کہا کہ چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے غلط طرز عمل کو درست کرکےسائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے حوالے سےدوسرے ممالک کے حقوق کا احترام کرے۔ان کا کہنا تھا کہ چین امریکی اقدامات پر عمل درآمد کا باریک بینی سے مشاہدہ کرےگا اور اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام مضبوط اقدامات اٹھائےگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق آئی ایم ایف مذاکرات: آئندہ مالی سال فی لیٹر پیٹرولیم لیوی 100 روپے سے زائد کرنے کی تجویز چینی صدر کا صوبہ حہ نان کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے پر زور چین کی روس اور یوکرین کے درمیان براہ راست مذاکرات اور بحران کے سیاسی حل کی حمایت چینی صدر کا صوبہ حہ نان کے شہر لویانگ کا دورہ غربت کا خاتمہ دنیا کے تمام ممالک کا مشترکہ نصب العین ہے، چینی صدر صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ کا حکومت سے انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس پر نظر ثانی کا مطالبہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امریکی اقدامات اقدامات پر
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔