بھارت نے اپنے کٹھ پتلی دہشت گردوں کےذریعے بلوچستان میں بچوں کو نشانہ بنایا، علی رضا سید
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں چیئرمین کشمیر کونسل ای یو کا کہنا تھا کہ میدان جنگ میں شکست کھانے کے بعد بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید نے کہا ہے کہ بلوچستان کے علاقے خضدار میں بھارت نواز دہشت گردوں کے حملے میں اسکول کے معصوم بچوں کا قتل عام قابلِ مذمت ہے۔ علی رضا سید نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت نے اپنے کٹھ پتلی دہشت گردوں کے ذریعے بلوچستان میں اسکول کے معصوم اور نہتے بچوں کو نشانہ بنایا۔ یہ بھارتی سفاکی اور بزدلی کی انتہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میدان جنگ میں شکست کھانے کے بعد بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ علی رضا سید نے کہا کہ پاکستان اور آزادکشمیر میں حالیہ بھارتی حملوں میں بھی بچوں و خواتین سمیت متعدد افراد شہید ہوئے۔ چیئرمین کشمیر کونسل ای یو نے مزید کہا کہ بھارت نے پہلگام حملے کی آڑ میں بھی مقبوضہ کشمیر میں بچوں اور خواتین پر ظلم و ستم کیا انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو غیر انسانی بھارتی ظالمانہ ہتھکنڈوں پر فوری نوٹس لینا چاہیے۔ علی رضا سید کا کہنا تھا کہ اقوام عالم کو کشمیریوں پر بھارتی مظالم روکوانا ہوں گے، عالمی طاقتیں کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلوائیں۔ واضح رہے کہ خضدار میں بدھ کو اسکول بس پر دہشت گردانہ حملے میں 4 بچوں سمیت 6 افراد شہید ہوئے اور چالیس سے زائد بچے زخمی ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علی رضا سید نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔