اپنے ایک بیان میں چیئرمین کشمیر کونسل ای یو کا کہنا تھا کہ میدان جنگ میں شکست کھانے کے بعد بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید نے کہا ہے کہ بلوچستان کے علاقے خضدار میں بھارت نواز دہشت گردوں کے حملے میں اسکول کے معصوم بچوں کا قتل عام قابلِ مذمت ہے۔ علی رضا سید نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت نے اپنے کٹھ پتلی دہشت گردوں کے ذریعے بلوچستان میں اسکول کے معصوم اور نہتے بچوں کو نشانہ بنایا۔ یہ بھارتی سفاکی اور بزدلی کی انتہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میدان جنگ میں شکست کھانے کے بعد بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ علی رضا سید نے کہا کہ پاکستان اور آزادکشمیر میں حالیہ بھارتی حملوں میں بھی بچوں و خواتین سمیت متعدد افراد شہید ہوئے۔ چیئرمین کشمیر کونسل ای یو نے مزید کہا کہ بھارت نے پہلگام حملے کی آڑ میں بھی مقبوضہ کشمیر میں بچوں اور خواتین پر ظلم و ستم کیا انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو غیر انسانی بھارتی ظالمانہ ہتھکنڈوں پر فوری نوٹس لینا چاہیے۔ علی رضا سید کا کہنا تھا کہ اقوام عالم کو کشمیریوں پر بھارتی مظالم روکوانا ہوں گے، عالمی طاقتیں کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلوائیں۔ واضح رہے کہ خضدار میں بدھ کو اسکول بس پر دہشت گردانہ حملے میں 4 بچوں سمیت 6 افراد شہید ہوئے اور چالیس سے زائد بچے زخمی ہوئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علی رضا سید نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی