جنگی میدان میں شکست؛ پاک بھارت ٹیمیں اب ایک گروپ میں نہیں ہونگی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
بھارتی میڈیا ایک مرتبہ پھر جنگی میدان میں شکست کا بدلہ کھیل سے نکالنے میں مصروف ہوگیا۔
میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے سالانہ اجلاس میں پاک بھارت ٹیموں کو ایک گروپ سے نکالنے سمیت مستقبل میں پاکستان کیخلاف میچز سے متعلق فیصلہ بھی ہونے کا امکان ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے آئی سی سی ایونٹس میں پاکستان اور بھارت کو ایک ہی گروپ میں رکھا جاتا ہے تاکہ دونوں ٹیمیں کم از کم 2 بار ٹورنامنٹ میں مدمقابل آسکیں اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا ریونیو بڑھایا جاسکے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی میزبانی میں ہونیوالی چیمپئینز ٹرافی نے نئے ریکارڈ بناڈالے
تاہم دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی نے معاملات کو الجھا دیا ہے اور قوی امکان ہے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) آئی سی سی ایونٹس ایک گروپ میں شامل نہ کرنے کا مطالبہ کرے۔
مزید پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی؛ آئی سی سی کے سالانہ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت صرف آئی سی سی ایونٹس میں ایک دوسرے کے خلاف کھیلتے ہیں تاہم تاریخی ہزیمت کے بعد بھارت اور سری لنکا میں شیڈول ٹی20 ورلڈکپ کی مشترکہ میزبانی پر بھی سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایشیا کپ سے دستبرداری کی خبروں پر بھارتی بورڈ کا بیان سامنے آگیا
دوسری جانب آئی سی سی سربراہ کے طور پر منتخب ہونیوالے جے شاہ ہندوستانی موقف کو دہرا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا سالانہ جنرل اجلاس 17 سے 20 جولائی تک سنگاپور میں منعقد ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔