ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ سرکاری ملازمت حاصل کرنے والے ملازمین بارے بڑی خبر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بین الاقوامی مالیاتی اداروں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے مطالبے پر پنشن اصلاحات پر عملدرآمد کے لئے تمام وزارتوں اور ڈویژنوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ سرکاری ملازمت حاصل کرنے والے ملازمین کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مراسلہ جاری کردیا گیا ہے اسی تناظر میں فیڈرل بورڈ آد ریونیو( ایف بی آر) نے بھی ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ سرکاری ملازمت حاصل کرنے والے ملازمین کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے تمام فیلڈ فارمیشنز کو جاری کردہ مراسلہ میں ہدایت کی ہے کہ گریڈ 1 سے 16 تک کے ان تمام ملازمین کا ریکارڈ 26 مئی تک فراہم کیا جائے، جنہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد کسی بھی حیثیت ریگولر یا کنٹریکٹ میں دوبارہ ملازمت اختیار کی ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ریٹائرمنٹ کی تاریخ، نئی ملازمت کے حصول کی مدت اور تنخواہ و پنشن سے متعلق تمام تفصیلات مہیا کی جائیں۔
اس کے علاوہ، ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ 60 سال کی عمر کے بعد پنشن یا نئی سرکاری ملازمت کی تنخواہ میں سے صرف ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
مزیدپڑھیں:کرپشن میں ملوث کتنے سرکاری ملازمین گرفتار؟ تفصیلات سامنے آگئیں
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری ملازمت
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔