آرمی چیف سید عاصم منیر کو بیٹن آف فیلڈ مارشل سے نواز دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
آرمی چیف سید عاصم منیر کو ’بیٹن آف فیلڈ مارشل‘ سے نواز دیا گیا۔
بیٹن آف فیلڈ مارشل دیے جانے کی تقریب اسلام آباد میں جاری ہے۔ ایوان صدر میں جمعرات کو ہونے والی تقریب میں صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، سابق وزیراعظم نواز شریف، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری شریک ہیں۔
وفاقی کابینہ کے ارکان، سروسز چیفس، صوبائی گورنرز اور ارکان پارلیمنٹ کی بڑی تعداد، غیر ملکی سفارتکار، سول وعسکری حکام بھی تقریب میں موجود ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری اور ان کے ساتھ کھڑے وزیراعظم شہباز شریف نے’بیٹن آف فیلڈ مارشل‘ پاک افواج کے سپریم کمانڈر عاصم منیر کے حوالے کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بیٹن آف فیلڈ مارشل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بیٹن ا ف فیلڈ مارشل فیلڈ مارشل
پڑھیں:
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔