Express News:
2026-06-03@00:47:11 GMT

سائنس دانوں کا مرد تن سازوں سے متعلق ہوشربا انکشاف!

اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT

ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ مرد تن ساز قلبی مسائل سے اچانک موت کے زیادہ خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔

یورپین ہارٹ جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں پیشہ ور تن سازی سے جڑے صحت کے مسائل پر روشنی ڈالی گئی اور اس کھیل میں آگہی اور حفاظتی لائحہ عمل متعارف کرانے پر زور دیا گیا۔

اچانک قلبی موت ایسی موت کو کہا جاتا ہے جب کسی کی غیر متوقع طور پر قلبی مسئلے سے موت واقع ہوجاتی ہے اور یہ نوجوانوں میں عموماً کم ہی واقع ہوتی ہے۔

تاہم، نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ اس کیفیت سے غیر معمولی طور پر مرد تن سازوں کی زیادہ اموات واقع ہو رہی ہیں (بشمول کم عمر تن ساز) جبکہ پیشہ ور تن سازوں کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔

محققین کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے مطالعے میں 20 ہزار 286 مرد تن سازوں کی موت کی رپورٹ کا معائنہ کیا۔ ان تن سازوں نے 2005 سے 2020 تک کم از کم ایک بار تن سازی کے مقابلے میں حصہ لیا تھا، اور ان رپورٹس کی ڈاکٹروں نے تصدیق کی تھی۔

تحقیق میں معلوم ہوا کہ مجموعی طور پر 20 ہزار سے زائد پیشہ ور تن سازوں میں 121 کی اموات کی اوسط 45 برس تھی۔ جبکہ ان 121 اموات میں تقریباً 40 فی صد حصہ قلبی مسئلے کی وجہ سے پیش آئی تھیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے