ثقافتی ترقی کے درمیان ہم آہنگی چینی جدیدیت کی ایک اہم خصوصیت ہے، چینی صدر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
ثقافتی ترقی کے درمیان ہم آہنگی چینی جدیدیت کی ایک اہم خصوصیت ہے، چینی صدر WhatsAppFacebookTwitter 0 23 May, 2025 سب نیوز
بیجنگ :چین کے صدر شی جن پھنگ نے ثقافتی اخلاقی ترقی کے بارے میں اہم ہدایات جاری کی ہیں۔جمعہ کے روز انہوں نے واضح کیا کہ مادی خوشحالی اور ثقافتی و اخلاتی ترقی کے درمیان ہم آہنگی چینی جدیدیت کی ایک اہم خصوصیت ہے۔شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ نئے دور میں چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم نظریے کو مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ سوشلزم کی بنیادی اقدار پر وسیع پیمانے پر عمل کیا جاسکے۔
لوگوں کی روحانی دنیا کی مسلسل آبیاری اور اُن کی ہمہ جہت ترقی کو فروغ دینا ضروری ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ثقافتی اخلاقی مربوط ترقی کو فروغ دینا، شہری اخلاقیات کی تعمیر کو مضبوط بنانا، مثبت اور پاکیزہ سماجی رجحان کو تشکیل دینا ضروری ہے۔
اعلیٰ معیار کی ثقافتی و اخلاقی ترقی کو فروغ دے کر ایک مضبوط ملک کی تعمیر اور قومی احیاء کے لیے مضبوط روحانی قوت فراہم کی جائے گی ۔ثقافتی و اخلاقی ترقی کی قومی کانفرنس 23 مئی کو بیجنگ میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں شی جن پھنگ کی اہم ہدایات سے آگاہ کیا گیا۔ سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے مستقل رکن اور سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے سیکریٹریٹ کے سیکرٹری چھائی چی نے اجلاس میں شرکت کی اور خطاب کیا
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین اپنے بیرون ملک طلباء اور محققین کے جائز قانونی حقوق و مفادات کا مضبوطی سے تحفظ کرے گا ، چینی وزارت خارجہ چین اپنے بیرون ملک طلباء اور محققین کے جائز قانونی حقوق و مفادات کا مضبوطی سے تحفظ کرے گا ، چینی وزارت خارجہ غیر ملکی کاروباری اداروں کا چینی مارکیٹ پر اعتماد کا اظہار چین کے شی زانگ خود اختیار علاقے کے قیام کی 60 ویں سالگرہ کی تقریبات کا لوگو جاری رواں مالی سال کے 10ماہ میں پاکستان کو کتنے ارب ڈالر بیرونی قرض ملا؟ چین، قومیتی زبانوں کی نشریات کی 75ویں سالگرہ کی مناسبت سے سمپوزیم کا انعقاد معاون خصوصی ہارون اختر خان سے عاطف اکرام شیخ کی قیادت میں وفد کی ملاقاتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے درمیان
پڑھیں:
وزیراعظم کی معروف صنعتکاروں، ممتاز کاروباری شخصیات سے ملاقات، پالیسی سازی، بجت سے متعلق مشاورت
وزیراعظم شہباز شریف سے ملک کے معروف صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد نے ملاقات کی، یہ ملاقات ملک کی مجموعی معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور مالی سال 2026-2027 کے بجٹ کے حوالےسے کاروباری برادری سے مشاورت کے تناظر میں تھی۔
وفد میں میاں محمد منشا، عارف حبیب، عاطف باجوہ، محمد علی تبہ، مصدق ذوالقرنین، زیاد بشیر، شہزاد سلیم، زیلاف منیر، عمر سعید، عمر منشا، یوسف سعید، کامران ارشد، خرم مختار ، آصف پیر، سلطان گوہر اعجاز، فواد انور، ذوالفقار حیات، جاوید اقبال، یوسف حسین، عامر ابراہیم، خواجہ مسعود اختر اور اعجاز نبی شامل تھے۔
وزیراعظم نے وفد کو خوش آمدید کہا اور گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ پاکستان کے سفیر اور دنیا میں ہماری پہچان ہیں، مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کے شکر گزار ہیں، حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کے حوالے سے پالیسی سازی میں کاروباری برادری سے مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے، برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، یہی ہماری معاشی پالیسی کا محور ہے، غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات شامل کئے جا رہے ہیں، کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت مستحکم ہوئی اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا، ایسی صنعتوں کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں جن سے ملکی پیداوار بڑھے، برآمدات میں اضافہ ہو، ملازمتوں کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ صنعت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ترقی سے معیشت کو مزید استحکام ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے، نوجوانوں کیلئے تکنیکی و فنی تربیت کے پروگرام شروع کئے ہیں تاکہ انکو روز گار ملنے میں آسانی ہو اور وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔
وفد کو کاروبار، صنعت و تجارت کے فروغ کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات جلد نمٹائے کیلئے ٹیکس ٹریبونلز میں اصلاحات کی گئی ہیں؛ ان ٹریبونلز میں انتہائی شفاف طریقہء کار کے ذریعے بھرتیاں کی گئی ہیں، اسپیشل کمرشل کورٹس کے قیام کے حوالےسےکمیٹی تشکیل دی گئی ہے، کراچی کی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے کے لئے موٹر وے ایم- 10 کی اپ گریڈیشن اور پیپری فریٹ کوریڈور پر کام جاری ہے۔
بریفنگ کے مطابق موٹر وے ایم 13 (کھاریاں-راولپنڈی) کی تعمیر سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ کم ہو جائے گا، پاکستان ریلوے کی ایم۔ایل ون اور ایم ایل- ٹو کی اپ گریڈیشن سے ریلوے کا انفرااسٹرکچر بہتر ہو گا جس سے تجارتی سامان کی ترسیل بہتر ہو گی، نیشنل اے-آئی ٹرانسفارمیشن پلان تشکیل دیا جا رہا ہے، شوگر اور سیمنٹ سیکٹر کی پیداوار کے حوالے سے ان صنعتوں میں وڈیو اینالیٹکیس کی تنصیب سے ریوینیو کی مد میں بہتری آئی۔
وفد نے خطے میں امن کی بحالی کے لئے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا، کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم کی قیادت میں معاشی بحالی کے سفر اور بہتر مالیاتی انتظام پر اعتماد کا اظہار کیا۔
وفد نے ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے اور کاروبار و سرمایہ کاری کیلئے موزوں ماحول فراہم کرنے پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور دستاویزی معیشت کے فروغ کے حکومتی وژن کو سراہتے ہیں۔
وفد نے ٹیکس اصلاحات اور کاروباری آسانیوں کے فروغ کے اقدامات کا خیرمقدم کیا، کاروباری رہنماوں نے صنعتوں کیلئے بجلی کے نرخوں میں کمی لانے، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ لیوی کے خاتمے اور ٹیکس ریفنڈ کی بروقت ادائیگیوں پر وزیراعظم سے اظہار تشکر کیا۔
شرکاء نے آئندہ بجٹ کی تیاری میں کاروباری برادری کو اعتماد میں لینے کے اقدام کو سراہا، کاروباری رہنماؤں نے قومی معیشت کی مضبوطی اور بجٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز وزیراعظم کو پیش کیں، کاروباری برادری نے معاشی بحالی اور ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وفد کے شرکاء نے صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حکومتی عزم کو سراہا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، اٹارنی جنرل منصور اعوان ، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔