یمن کی جانب سے بن گوریون ایئرپورٹ پر میزائل حملہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
چند گھنٹے قبل انصاراللہ تحریک کے میڈیا کے ایک اعلیٰ عہدیدار نصرالدین العامر نے ایک بار پھر ایئر لائنز اور شپنگ کمپنیوں کو بن گوریون ایئرپورٹ اور حیفا بندرگاہ میں نقل و حرکت سے باز رہنے کا انتباہ دیا۔ اسلام ٹائمز۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے غزہ کے عوام کی حمایت میں تل ابیب کے بین الاقوامی بن گوریون ایئرپورٹ پر میزائل حملے کی خبر دی ہے۔ فارس نیوز کے مطابق، یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحیی سریع نے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی عوام اور ان کے مجاہدین کی حمایت اور غزہ میں صہیونی حکومت کی اجتماعی نسل کشی کے ردعمل کے طور پر تل ابیب میں ایک ہدف پر میزائل حملہ کیا گیا ہے۔ اپنے بیان میں بریگیڈیئر سریع نے کہا کہ یمن کی میزائل فورس نے ایک خاص فوجی آپریشن انجام دیا ہے اور ہائپر سونک بیلسٹک میزائل سے اللُد ایئرپورٹ (جسے اسرائیل میں بن گوریون کہا جاتا ہے) کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن اللہ کے فضل سے اپنے ہدف تک پہنچا، جس کے باعث لاکھوں صہیونی قابضین پناہ گاہوں کی طرف بھاگے اور ایئرپورٹ پر پروازیں معطل ہو گئیں۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے تاکید کر کے کہا کہ غزہ میں روزانہ ہونے والے مظالم پر خاموشی امت مسلمہ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے، اور اگر اسلامی ممالک اپنی دینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری پوری نہ کریں تو دشمن کے مزید حملوں کا نشانہ بنیں گے۔ بریگیڈیئر سریع نے آخر میں کہا کہ یمن کی مسلح افواج کی کارروائیاں غزہ پر حملے رکنے اور اس کا محاصرہ ختم ہونے تک جاری رہیں گی اور اللہ کے فضل سے ان میں شدت آئے گی۔ چند گھنٹے قبل انصاراللہ تحریک کے میڈیا کے ایک اعلیٰ عہدیدار نصرالدین العامر نے ایک بار پھر ایئر لائنز اور شپنگ کمپنیوں کو بن گوریون ایئرپورٹ اور حیفا بندرگاہ میں نقل و حرکت سے باز رہنے کا انتباہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مقامات یمنی مسلح افواج کے اہداف کی فہرست میں شامل ہیں اور کسی بھی وقت ان پر حملہ ہو سکتا ہے، اور جب تک غزہ پر حملے اور اس کا محاصرہ جاری رہے گا، ان اور دیگر اہم اہداف پر کارروائیاں بھی جاری رہیں گی۔ اسرائیلی چینل 12 نے بھی لکھا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کے اندازوں کے مطابق جب تک غزہ میں جنگ جاری ہے، حوثیوں کے حملے بھی جاری رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یمنی مسلح افواج کے کہا کہ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزیرے قشم پر امریکی فوج کی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے ’اپنے دفاع‘ کے تحت حملہ کیا، جبکہ ایران نے جواباً کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعووں کے باوجود واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔
امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے قشم جزیرے پر ’ اپنے دفاع‘ کے تحت حملے کیے، جبکہ ایران کی جانب سے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کویت میں تعینات امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز کی ایک نئی لہر بھیجی گئی، تاہم یہ حملہ ناکام بنا دیا گیا۔
ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار سینٹکام کے مطابق امریکی فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو مار گرایا اور اس کارروائی میں کسی امریکی اہلکار یا فوجی اثاثے کو نقصان نہیں پہنچا۔
تازہ حملوں کی یہ اطلاعات اس وقت سامنے آئیں جب ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اعلان کیا کہ قشم جزیرے پر رات گئے امریکی حملے کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹکام نے بدھ کی صبح جاری بیان میں کہا تھا کہ اس نے قشم جزیرے پر واقع ایک ایرانی زمینی کنٹرول اسٹیشن پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی۔
دوسری جانب امریکی فوج نے پاسدارانِ انقلاب کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور خطے میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
بیان میں کہا گیا، ’امریکی افواج کے خلاف ایران کے تمام حملے ناکام رہے۔ امریکی فوج ہر وقت چوکس ہے اور کسی بھی بلاجواز ایرانی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔‘
ادھر ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کے انجن روم کو نقصان پہنچا۔
ایرانی فورس کے مطابق اس کے جواب میں ایک امریکی اسرائیلی جہاز پر بحری میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے بعد امریکی افواج نے قشم جزیرے کے جنوب میں واقع پاسدارانِ انقلاب کے ایک مواصلاتی ٹاور کو نشانہ بنایا۔
پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد اس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ایک امریکی فضائی اڈے، امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور خطے کے ایک ملک میں موجود امریکی ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب امریکی فوج نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے قشم جزیرے پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی اور ساتھ ہی متعدد ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کیا۔
سینٹکام کے مطابق ایران نے خطے کے پڑوسی ممالک کی جانب کئی بیلسٹک میزائل داغے، تاہم کوئی بھی اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکا۔
امریکی بیان میں کہا گیا کہ کویت کی جانب فائر کیے گئے دو ایرانی میزائل راستے ہی میں گر گئے یا ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے، جبکہ بحرین کی طرف داغے گئے تین میزائلوں کو امریکی اور بحرینی فضائی دفاعی نظام نے فوری طور پر تباہ کر دیا۔
واضح رہے کہ بحرین اور کویت میں حالیہ دنوں فضائی حملے کے خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں