ضرب پاکستان کانفرنس سے خطاب میں تحریک لبیک یارسول اللہ (ص) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ضربِ پاکستان سے بھارت کو عسکری اور سفارتی ہر محاذ پر منہ کی کھانی پڑی، افواجِ پاکستان نے بھارت کو ایسی کاری ضرب لگائی ہے کہ صرف بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت ہی نہیں، دنیا بھر کے جنگی ماہرین حیرت میں ڈوبے ہوئے ہیں، آپریشن بنیان مرصوص کے صرف پانچ گھنٹوں کے بعد دنیا کا نقشہ بدلا بدلا دکھائی دے رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ(ص) اور تحریک صراط مستقیم کے زیراہتمام مرکزی جامعہ جلالیہ رضویہ مظہر الاسلام  داروغہ والا لاہور میں ”ضرب پاکستان کانفرنس“ کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک لبیک یا رسول اللہ(ص) کے سربراہ اور تحریک صراط مستقیم کے بانی ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کہاکہ افواجِ پاکستان ملکی سلامتی کی علامت اور قوم کا قابل فخر اثاثہ ہیں، مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی دیرپا نہیں ہو سکتی۔ مادرِ وطن کا دفاع کرنے پر قوم افواجِ پاکستان کو سلام کہتی ہے، ضربِ پاکستان سے بھارت کو عسکری اور سفارتی ہر محاذ پر منہ کی کھانی پڑی، افواجِ پاکستان نے بھارت کو ایسی کاری ضرب لگائی ہے کہ صرف بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت ہی نہیں، دنیا بھر کے جنگی ماہرین حیرت میں ڈوبے ہوئے ہیں، آپریشن بنیان مرصوص کے صرف پانچ گھنٹوں کے بعد دنیا کا نقشہ بدلا بدلا دکھائی دے رہا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ بھارت میں آزادی پسند تحریکوں نے زور پکڑ لیا ہے، ہر کوئی مودی پر تنقید کر رہا ہے، چار دنوں کی جنگ میں بھارتی فوج کو واضح ہار کا سامنا ہوا اور افواجِ پاکستان کو قوم کی طرف سے ہار پہنائے گئے۔ ہندو توا اور اکھنڈ بھارت کا خواب چکنا چور ہو چکا ہے۔ لیکن مودی پھر شرارتوں سے باز نہیں آ رہا ہے۔ اشرف آصف جلالی کا کہنا تھا کہ بھارت نے کشن گنگا ڈیم سے دریائے نیلم کا پانی روک کر پھر ایک بار جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔ کانفرنس میں شہدائے پاکستان کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ کانفرنس میں قاری محمد اصغر علی ترابی، ڈاکٹر محمد آصف علی بلالی، ڈاکٹر محمد عمران جلالی، مفتی محمد ارسلان جلالی، مفتی محمد فرید احمد جلالی، علامہ محمد عمران رضا جلالی، علامہ محمد ساریہ احسن جلالی، علامہ محمد عتیق الرحمن جلالی، علامہ محمد ربیع احسن جلالی و دیگر نے شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ محمد بھارت کو رہا ہے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا