لیبیا میں بڑی پیش رفت: حکومت اور مسلح گروپ ’’رداع‘‘ کے درمیان معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
طرابلس: لیبیا کی اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ حکومت نے طاقتور مسلح گروپ ’’رداع فورس‘‘ کے ساتھ ایک ابتدائی معاہدہ کر لیا ہے تاکہ کئی ماہ سے جاری کشیدگی اور وقفے وقفے سے ہونے والے جھڑپوں کو ختم کیا جا سکے۔ یہ مذاکرات ترکی کی سہولت کاری سے انجام پائے۔
صدارتی کونسل کے مشیر زیاد دغم نے کہا کہ معاہدے کی تفصیلات بعد میں عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔ تاہم لیبیائی نشریاتی ادارے الاحرار نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں وزارت دفاع کے فوجیوں کو ایک ایسے ہوائی اڈے میں داخل ہوتے دکھایا گیا جو اب تک رداع فورس کے کنٹرول میں تھا۔
ذرائع کے مطابق دونوں فریقوں نے چار مغربی ہوائی اڈوں بشمول معیتیقہ ایئرپورٹ کی حفاظت اور انتظام کے لیے ایک غیر جانبدار و مشترکہ فورس بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ معیتیقہ ایئرپورٹ 2011 سے رداع فورس کے قبضے میں تھا اور دارالحکومت طرابلس کا واحد کمرشل ایئرپورٹ ہے۔
مزید یہ کہ رداع فورس کے زیرِ انتظام جیلیں اور حراستی مراکز اب اٹارنی جنرل کے دفتر کے تحت آ جائیں گے۔ زیاد دغم نے اس موقع پر ترکی اور اقوام متحدہ کے خصوصی مشن (UNSMIL) کی کوششوں کو بھی سراہا۔
لیبیا اب بھی سیاسی تقسیم اور عدم استحکام کا شکار ہے، ایک طرف طرابلس میں اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ حکومت جبکہ مشرقی حصے میں خلیفہ حفتر کی حمایت یافتہ حریف قوتیں موجود ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رداع فورس
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
فائل فوٹوآزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔
آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔