آپریشن بنیان مرصوص: پاکستان سے ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت کا جنگ بندی میں امریکی کردار کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان کے خلاف جنگ بندی میں امریکی کردار کا اعتراف کرلیا جب کہ اس سے قبل پاکستان سے ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت مسلسل جنگ بندی میں امریکی کردار سے انکار کرتارہا۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت اور سیکریٹری خارجہ کی جانب سے بارہا جنگ بندی میں امریکی کردار کی تردید کی جاتی رہی، بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے انکشاف کیا کہ امریکی نائب صدر اور سیکرٹری آف اسٹیٹ روبیو بھارتی حکومت سے براہِ راست رابطے میں تھے۔
بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے کہا کہ امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ روبیو کا مجھ سے رابطہ ہوا، کشیدگی کے دوران امریکی نائب صدر وینس نے وزیراعظم مودی سے رابطہ کیا۔
دفاعی ماہرین نے کہا کہ بھارتی حکومت نے ذلت آمیز شکست کے بعد جنگ بندی میں امریکی کردار سے مسلسل انکار کیا، جے شنکر کا انٹرویو جنگ بندی میں امریکی کردار کی تصدیق کرتا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا تھا کہ ذلت آمیز شکست چھپانے کے لیے بھارت نے مختلف حربے آزمائے، لیکن آخرکارسچ سامنے آگیا، امریکی صدر کے واضح بیانات نے بھارت کو سچ بولنے پر مجبور کر دیا۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جنگ بندی میں امریکی کردار ذلت آمیز شکست
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔