پاکستان کیخلاف جارحیت، بھارتی ماہرین شکست تسلیم کرنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
بھارت کی جانب سے پاکستان کیخلاف بلاجواز جارحیت پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے اور بھارتی میڈیا میں پاکستان کیخلاف جارحیت اور بھارتی فوج کی ناکامی پر تنقید کی جا رہی ہے۔
بھارتی دفاعی تجزیہ کار پرواین سواہنے نے ایک بار پھر بھارتی مہم جوئی کو غلط قرار دیا ہے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں اینکر ارفع خانم شیرازی کے سوال پرپراوین سواہنے نے کہا کہ ہم پاکستان کیخلاف حملہ کرکے کچھ بھی حاصل نہیں کرپائے۔
یہ بھی پڑھیے: ’مودی سرکار کھوکھلے بھاشن نہ دے‘، راہول گاندھی نے 3 سوالات پوچھ لیے
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کیخلاف حملے سے ہماری بین الاقوامی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے، پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہم نے ایک بحران کے اندر اپنی کیا فوجی طاقت دکھائی؟۔
پراوین سواہنے نے کہا کہ بالاکوٹ میں بھی فضائیہ کا استعمال غلط تھا اس وقت تو انہیں پتہ بھی نہیں تھا کہ ہم یہ کر رہے ہیں، اس بار تو وہ(پاکستان) آپ کے فضائی حملوں کے لیے مکمل تیار تھے، اگرآپ حملے کیلئے جا رہے ہیں تو اس کیلئے فوجی اہداف ہونا چاہئے۔
ان کا کہنا تھا کہ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا چاہئے تھا وہ بنایا نہیں، دہشتگردی کے کیمپ ملٹری ہدف نہیں ہیں، 7 مئی کی صبح پاکستان کے ایئر مارشل اورنگزیب نے شواہد سے بتایا کہ 5 بھارتی طیارے مار گرائے ہیں، ہمارے ایئرمارشل بھارتی سے جب سوال کیا گیا تو اس نے کہا کہ جنگ میں نقصان تو ہوتے ہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان،افغانستان اور چین ایک ہوگئے، انڈیا شدید تنہائی کا شکار
پراوین سواہنے نے کہا کہ اگر آپ وضاحت پوری نہیں دینگے تو پھر جو دوسری سائیڈ(پاکستان) دعویٰ کرتی ہے اسے دنیا مانتی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہہ دیا تھا کہ اب ہم جواب دیں گے، یہ خبریں بھی آئیں کہ اجیت ڈوول نے فوری طوپر امریکی سٹیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو سے بات کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب، جاپان حتیٰ کہ چینی وزیرخارجہ سے جے شنکر تک نے رابطہ کیا، اگربھارت لڑائی کے لیے تیار نہیں تھا تو اسے یہ غلطی کرنا ہی نہیں چاہیے تھی۔
دوسری طرف دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ پراوین سواہنے کے خیالات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ماہرین بھارتی شکست تسلیم کر چکے ہیں، بھارتی جارحیت بھارت کی کمزور جنگی حکمت عملی کی نشاندہی کر رہی ہے، پراوین کی گفتگو سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیزفائر کیلئے بھارت خود امریکا کے پاس گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا بھارتی جارحیت پاک بھارت کشیدگی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا بھارتی جارحیت پاک بھارت کشیدگی پاکستان کیخلاف پراوین سواہنے سواہنے نے نے کہا کہ تھا کہ
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس