بنگلہ دیش نے بھارت سے کروڑوں ڈالر کا دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
یہ معاہدہ بھارتی سرکاری دفاعی کمپنی "گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز لمیٹڈ" (GRSE) کو ایک جدید سمندری ٹگ بوٹ بنانے کے لیے جولائی 2024ء میں کیا گیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ بنگلہ دیش نے بھارت کے ساتھ 2 کروڑ 10 لاکھ ڈالر (تقریباً 21 ملین ڈالر) کا ایک اہم دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔ یہ معاہدہ بھارتی سرکاری دفاعی کمپنی "گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز لمیٹڈ" (GRSE) کو ایک جدید سمندری ٹگ بوٹ بنانے کے لیے جولائی 2024ء میں کیا گیا تھا۔ بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق بنگلہ دیش کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت نے حال ہی میں بنگلہ دیش کو ٹریڈ ٹرانس شپمنٹ کی سہولت واپس لے لی ہے، جس کے تحت بنگلہ دیش اپنے سامان کو تیسرے ممالک بھیج سکتا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی تناؤ کی علامت ہے، جو وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے اگست 2024ء میں ختم ہونے کے بعد مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ GRSE نے انڈین اسٹاک ایکسچینج کو جمع کرائی گئی رپورٹ میں اس معاہدے کی منسوخی کی تصدیق کی ہے۔ تاہم GRSE نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ انڈین نیوی کے لیے اگلی نسل کے جنگی جہازوں (Next Generation Corvettes) کے ٹینڈر میں سب سے کم بولی دینے والا ادارہ بن چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔