لاہور سے دن دہاڑے اغوا کی جانے والی خاتون اور بچے باحفاظت بازیاب، گرفتار ملزم کون ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
لاہور:
لاہور کے علاقے ڈیفنس اے سے خاتون اور تین بچوں کو اغوا کرنے والے شخص کو پولیس نے گرفتار کر کے خاتون اور بچوں کو باحفاظت بازیاب کروالیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈیفنس اے، میں خاتون کو اغواء کے معاملے پر پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ضلع وہاڑی کی تحصیل لڈن سے ملزم کو گرفتار کر کے خاتون اور تین بچوں کو بازیاب کروالیا۔
پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت ایوب کے نام سے ہوئی جو خاتون کا شوہر اور بچوں کا باپ ہے اور اُس نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دن دہاڑے کاتون کو اغوا کیا تھا۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے واقعہ کا نوٹس لے کر اسپیشل ٹیم تشکیل دی تھی، جس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگایا اور ریکی کر کے انہیں گرفتار کیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ مغویہ کو بچوں سمیت بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا، وقوعہ میں استعمال ہونے والی مہران گاڑی نمبری 6613 بھی برآمد کر لی گئی۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی ایس پی کینٹ، ایس ایچ او سمیت پوری ٹیم کو شاباش دی اور کہا کہ خواتین اور بچے ہماری ریڈ لائن، کسی بھی قسم کی ذیادتی ہرگز برداشتت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانون کو ہاتھ لینے والے کسی بھی رعائت کے مستحق نہیں ہیں۔ ابھی تک اغوا کی وجہ سامنے نہیں آسکی تاہم امکان ہے کہ خاتون شوہر کے ساتھ نہیں رہ رہی تھی جس پر اُس نے یہ قدم اٹھایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خاتون اور
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.