استنبول جانے والی پرواز میں ٹیک آف کے فوراً بعد فنی خرابی، لاہور ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اُس وقت سنسنی خیز صورت حال پیدا ہو گئی جب ترکی ایئرلائن کی ایک بین الاقوامی پرواز، جو استنبول کے لیے روانہ ہو رہی تھی، روانگی کے فوراً بعد غیر متوقع تکنیکی خرابی کا شکار ہو گئی۔
پائلٹ کی فوری مہارت اور کنٹرول ٹاور کے بروقت ردعمل کی بدولت طیارے کو بحفاظت واپس ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا، لیکن اس تمام واقعے نے طیارے میں سوار مسافروں کو شدید ذہنی دباؤ اور خوف میں مبتلا کر دیا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق یہ پرواز جب فضا میں بلند ہو رہی تھی تو اچانک طیارے کے ایک اہم تکنیکی نظام میں خرابی پیدا ہو گئی، جس کے بعد پائلٹ نے فوری طور پر کنٹرول ٹاور سے رابطہ کر کے ہنگامی لینڈنگ کی اجازت طلب کی۔
ایئر ٹریفک کنٹرول کی طرف سے فوری اجازت کے بعد پائلٹ نے نہایت مہارت سے طیارے کو واپس موڑا اور ایک پرسکون مگر تناؤ بھرے ماحول میں اسے لاہور ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار دیا۔
ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ پائلٹ کی پیشہ ورانہ قابلیت اور تیز فیصلے نے ممکنہ بڑے حادثے کو ٹال دیا۔ لینڈنگ کے بعد طیارے کو فوری طور پر ٹیکنیکل ایریا میں منتقل کر دیا گیا، جہاں ماہر انجینئرز نے طیارے کا تفصیلی معائنہ شروع کر دیا ہے تاکہ خرابی کی اصل نوعیت اور وجہ کا تعین کیا جا سکے۔
پرواز میں موجود تمام مسافروں کو فوری طور پر جہاز سے بحفاظت باہر نکالا گیا اور ایئرپورٹ لاؤنج میں منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں تازہ صورتحال سے آگاہ کرنے اور متبادل پرواز سے متعلق بریفنگ دی جا رہی ہے۔
مسافروں میں شامل کئی افراد نے اس واقعے کے بعد اپنے تحفظات اور خوف کا اظہار کیا، کچھ کہا کہ لینڈنگ سے قبل جہاز کے اندر گھبراہٹ اور بے چینی کا ماحول تھا، تاہم عملے نے مسافروں کو پرسکون رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔
ایئرلائن انتظامیہ نے واقعے کے بعد فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے اور تکنیکی ٹیم کو طیارے کی مکمل جانچ پڑتال کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
اس واقعے کے بعد مسافروں کے لیے متبادل پرواز کی فراہمی کے حوالے سے ایئرلائن کی کوششیں جاری ہیں اور توقع ہے کہ جلد ہی انہیں نئی فلائٹ کے ذریعے منزل کی طرف روانہ کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایئرپورٹ پر فوری طور پر کر دیا کے بعد
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔