عالمی ایئرلائنز نے ہفتے کے روز ائیربس اے 320 طیاروں میں سامنے آنے والی سافٹ ویئر خرابی کو دور کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر دیا۔

یورپی طیارہ ساز کمپنی کی جانب سے جزوی ریکال کے بعد ایشیا اور یورپ میں سیکڑوں پروازیں متاثر ہوئیں جبکہ امریکا میں بھی سال کے مصروف ترین سفر کے دوران خلل کا خدشہ پیدا ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں: انڈونیشیا میں پھنسے طیاروں کی واپسی: پی آئی اے نے لیزنگ کمپنی کو 13 ملین ڈالر کی رقم ادا کردی

 ائیربس کے سی ای او گیوم فاری نے اے 320 فیملی کے تقریباً 6 ہزار طیاروں کے اچانک ریکال پر ایئرلائنز اور مسافروں سے معذرت کی۔ یہ ماڈل دنیا میں سب سے زیادہ ڈیلیور ہونے والا مسافر طیارہ بن چکا ہے۔

ہنگامی الرٹ

ریکال کا فیصلہ 30 اکتوبر کو جٹ بلیو کی ایک پرواز میں اچانک بلندی کم ہونے کے واقعے کے بعد کیا گیا تھا جس میں 10 مسافر زخمی ہوئے تھے۔

فرانسیسی تحقیقاتی ادارہ اس واقعے کی تفتیش کر رہا ہے اور ابتدائی رپورٹ میں سورج کی شعاعوں سے پیدا ہونے والی سولر ریڈی ایشن کو ممکنہ وجہ قرار دیا گیا ہے۔ عالمی ریگولیٹرز نے ایئرلائنز کو ہدایت دی تھی کہ سافٹ ویئر کے مسئلے کو حل کیے بغیر کوئی پرواز روانہ نہ کی جائے۔

رات بھر مرمت کا سلسلہ

یورپ اور ایشیا میں زیادہ تر ایئرلائنز رات کے وقت اے 320 آپریشن نہیں چلاتیں جس کی وجہ سے رات بھر مرمت کا موقع ملا اور بڑے پیمانے پر پروازوں کی منسوخی سے بچاؤ ممکن ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: دبئی ایئرشو میں تیجاس طیارے کا حادثہ، ‘بھارتی طیاروں کی برآمدات کا امکان تقریباً ختم ہوگیا’

سعودی ایئرلائن فلائی اڈیل کے سی ای او اسٹیون گرین وے نے بتایا کہ سسٹم کی خرابی رات کے آخری پہر ظاہر ہوئی جس سے بڑے آپریشنل نقصان سے بچت ہوئی۔ کمپنی نے اپنے تمام 13 متاثرہ طیارے ٹھیک کر لیے۔

سافٹ ویئر ری سیٹ اور ہارڈویئر تبدیلی

ایئرلائنز کو سافٹ ویئر کے پچھلے ورژن پر واپس جانا ہوگا جبکہ پرانے طیاروں میں ہارڈویئر بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مرمت کا وقت تقریباً 2 سے 3 گھنٹے فی طیارہ بتایا جارہا ہے۔

ایئرلائن انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق تقریباً ایک ہزار طیاروں میں ہارڈویئر تبدیلی کا خدشہ تھا لیکن تازہ اندازوں کے مطابق اصل تعداد اس سے کم ہوگی۔

عالمی پروازوں کی صورتحال

دنیا بھر سے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق ایئرلائنز مرمت کا عمل تیزی سے آگے بڑھا رہی ہیں۔ انڈی گو نے اپنے 200 میں سے 184 طیارے ٹھیک کر لیے جبکہ ائیر انڈیا نے 113 میں سے 69 طیارے مرمت کر لیے۔

تائیوان میں 67 میں سے دو تہائی طیارے متاثر ہوئے۔ انا ہولڈنگز نے 95 پروازیں منسوخ کیں جس سے 13 ہزار 500 مسافر متاثر ہوئے۔

یہ بھی پرھیں: امریکی دباؤ میں کوریا ایئر کا بوئنگ کے 103 طیاروں کا بیش قیمت معاہدہ

امریکن ایئرلائنز کے 480 میں سے 209 طیاروں کو ری سیٹ کی ضرورت پڑی۔ ائیر ایشیا نے 48 گھنٹے میں مرمت مکمل کرنے کا اعلان کیا۔

امریکا میں تھینکس گیونگ کے بعد سفر کی طلب میں اضافے کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ صورتحال مشکل ہو سکتی ہے۔

ماہرین کی رائے

ایوی ایشن کنسلٹنٹس کا کہنا ہے کہ اچانک ریکال کسی بھی ایئرلائن کے لیے بڑا آپریشنل چیلنج ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں پرزوں اور ٹیکنیکل عملے کی کمی نے اس صورتحال کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

 یورپی ایئرلائنز کے لیے مالیت پر اثر محدود رہے گا کیونکہ سال کے آخر کی مصروف سفری مدت ابھی شروع نہیں ہوئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

A320 we news امریکا ایئربس پروازیں منسوخ یورپ یورپی کمپنی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایئربس پروازیں منسوخ یورپ یورپی کمپنی طیاروں میں سافٹ ویئر مرمت کا کے لیے

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ