پاکستانیوں کا عالمی کارنامہ! یو اے ای کا سب سے بڑا جھنڈا بنا کر ریکارڈ قائم کردیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں نے ایک اور شاندار کامیابی حاصل کر لی — پاکستان ایسوسی ایشن دبئی (PAD) نے ہاتھوں کے نشانات سے دنیا کا سب سے بڑا جھنڈا تیار کر کے گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا۔
یہ کارنامہ "ہینڈز آف یونٹی" مہم کے تحت سرانجام دیا گیا، جس میں 100 سے زائد قومیتوں سے تعلق رکھنے والے 24,514 افراد نے شرکت کی۔ اس منفرد جھنڈے میں شامل ہر ہاتھ کا نشان اتحاد، ہم آہنگی اور محبت کا پیغام دے رہا ہے۔یہ مہم ایک ماہ پر محیط رہی جس میں 23 اسکولوں اور جامعات کے طلبہ، اور 39 مقامات پر موجود افراد نے اپنی شرکت یقینی بنائی۔گنیز ورلڈ ریکارڈز کے نمائندے نے پاکستان آڈیٹوریم دبئی میں منعقدہ خصوصی تقریب میں اس ریکارڈ کی باقاعدہ تصدیق کی۔تقریب میں پاکستانی سفیر برائے یو اے ای فیصل نیاز ترمذی، قونصل جنرل حسین محمد اور 250 سے زائد مہمانوں نے شرکت کی۔یہ کامیابی پاکستان ایسوسی ایشن دبئی، ایمیریٹس لوز پاکستان اور معروف فنکارہ روباب زہرہ کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔اس اقدام نے دنیا بھر کو ایک بار پھر یہ پیغام دیا کہ مذہب، قومیت اور زبان سے بالاتر ہو کر انسانیت اور یکجہتی کو فروغ دینا ممکن ہے۔ہینڈز آف یونٹی مہم نے ثابت کیا کہ مختلف پس منظر رکھنے والے افراد مل کر ایک عظیم مقصد حاصل کر سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔