ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب نے پاکستان میں ہیٹ ویو آنے کی وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ پاکستان میں اچانک 4 سے 5 ڈگری درجۂ حرارت بڑھ جاتا ہے، جس سے ہیٹ ویو آتی ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں درجۂ حرارت ایک سے دو ڈگری بڑھ چکا ہے۔
عرفان علی کاٹھیا کا کہنا تھا کہ درجۂ حرارت میں کمی کےلیے شجر کاری اور اربنائزیشن پر کنٹرول کرنا پڑے گا۔
گزشتہ روز آندھی، بارش اور آسمانی بجلی گرنے سے.
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں آندھی اور بارشوں کی اس شدت کی پیش گوئی نہیں تھی، آندھی اور بارش سے 110 افراد زخمی ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب کا کہنا تھا کہ صوبے میں 80 فیصد نقصانات کی وجہ سولر پینلز کا اکھڑ جانا تھا، عوام سولر پینلز مضبوطی سے لگوائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
پنجاب حکومت (Punjab Government)نے یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی سرکاری تعطیلات کے پیش نظر صوبے کے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی تنخواہیں، الاؤنسز اور پنشن مقررہ تاریخ سے قبل ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کو جولائی کی تنخواہیں اور واجب الاؤنسز 31 جولائی کو ادا کیے جائیں گے، جبکہ صوبے کے تمام پنشنرز کو بھی اسی روز جولائی کی پنشن جاری کر دی جائے گی۔
محکمہ خزانہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں گورنر پنجاب (Governor of Punjab) نے 31 جولائی کو تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کی قبل از وقت ادائیگی کی منظوری دے دی ہے تاکہ تعطیلات کے باعث ادائیگی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔
مزیدپڑھیں:دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
فیصلے پر عملدرآمد کے لیے محکمہ خزانہ نے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب (Accountant General Punjab)، تمام ضلعی ٹریژری دفاتر اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسران کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ متعلقہ بینکوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 31 جولائی کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پنشن کی بروقت ادائیگی کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کریں۔
حکام کے مطابق یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو بروقت ادائیگی یقینی بنائی جا سکے اور انہیں مالی معاملات میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔