وزیراعظم محمد شہباز شریف دو روزہ دورے پر تہران پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
تہران (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 26 مئی2025ء) وزیراعظم محمد شہباز شریف دو روزہ دورے پر ایران کے دارلحکومت تہران پہنچ گئے۔ مہرآباد ایئر پورٹ آمد پر ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی، پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم، پاکستان کے ایران میں سفیر مدثر ٹیپو اور اعلیٰ سفارتی حکام نے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی وفد کا استقبال کیا۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے پیر کو جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کومہرآباد ایئرپورٹ پر ایرانی فوج کے چاق و چوبند دستے نے سلامی دی۔ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور معاون خصوصی سید طارق فاطمی دورہ ایران میں وزیرِ اعظم کے ساتھ وفد میں شامل ہیں۔(جاری ہے)
دورے کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات کیلئے سعدآباد پیلس تہران جائیں گے جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا ۔ بعد ازاں وزیراعظم اور پاکستانی وفد کی ایرانی صدر اور ان کے وفد کے ساتھ ملاقات ہوگی جس میں دونوں ممالک کے مابین دو طرفہ تعاون کے فروغ اور پاکستان پر بھارت کی جانب سے مسلط کردہ حالیہ جنگ میں پاکستان کی حمایت و جنوبی ایشیاء میں امن کی کوششوں پر وزیراعظم ایرانی صدر و عوام کا شکریہ ادا کریں گے۔ وزیراعظم اور پاکستانی وفد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے ملاقات کرے گا جس میں دوطرفہ امور کے علاوہ اہم علاقائی امور پر گفتگو ہوگی۔ وزیرِ اعظم و پاکستانی وفد ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں بھی شرکت کرے گا۔\932.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وزیراعظم محمد شہباز شریف پاکستانی وفد اور پاکستان ایرانی صدر
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔