ترکیہ کا دورہ مکمل، وزیراعظم شہباز شریف ایران روانہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کا دورہ مکمل کر کے ایران کے دورے پر روانہ ہوگئے ہیں، اپنے دورے میں وہ سپریم رہنما علی خامنہ ای سمیت ایرانی صدر مسعود پُزشکیان سے بھی ملاقات کریں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے حالیہ دورہ پاکستان میں وزیراعظم شہباز شریف کو ایرانی صدر مسعود پُزشکیان کی جانب سے دورے کی دعوت دی تھی، وزیر اعظم کے ہمراہ ایک اعلی سطح وفد بھی ایران گیا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورہ ایران میں سپریم رہنما سید علی خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقاتوں میں ایرانی قیادت کو حالیہ پاک بھارت کشیدگی اور بعد کی صورتحال پر پاکستانی موقف پیش کریں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے دورہ پاکستان اور مصالحانہ کوششوں پر شکریہ بھی ادا کریں گے۔
دورہ ایران میں اپنی ملاقاتوں میں وزیر اعظم شہباز شریف عالمی و علاقائی امن و سلامتی، پاک ایران تعلقات، باہمی تعاون میں استحکام، سیکیورٹی اور تجارتی امور سمیت سرحدی انتظام پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا، ایرانی قیادت پاکستانی وزیراعظم کو امریکا اور ایران کے مابین جوہری مذاکرات پر اعتماد میں لے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران ترکیہ شہباز شریف وزیر اعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران ترکیہ شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اعظم شہباز شریف
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔