راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں 1 ارب 94 کروڑ کی کرپشن، نیب نے تحقیقات شروع کردیں
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں 1 ارب 94 کروڑ کی مبینہ کرپشن کی تحقیات کے لیے معاملہ نیب کے سپرد کردیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے فنڈز سے این بی پی سٹی برانچ میں آر ڈی اے کے اکاؤنٹ سے 22 اکاونٹس میں 236 ٹرانزیکشنز 1 ارب 94 کروڑ کے ذریعے رقوم ٹرانسفر کی گئیں۔
آر ڈی اے کی تحقیقاتی کمیٹی حتمی طور پر ذمہ داری کا تعین نہ کرسکی۔ آر ڈی اے پروب کمیٹی نے آر ڈی اے مالی معاملات میں کوتاہی کی تصدیق کی۔
آر ڈی اے نے تمام متعلقہ بینکوں کو چیک، پے آرڈر کے ذریعے رقوم کی منتقلی سے روک دیا، خردبرد کا علم اے ڈی فنانس ٹو کی رپورٹ کے ذریعے ہوا۔
رپورٹ کے بعد سابق اور موجودہ ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ فنانس کے خلاف تحقیقات کی گئیں جبکہ سابق اور موجودہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فنانس ون اور ٹو کو بھی سوالناموں کے ذریعے جواب طلب کئے گئے۔
سابق ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس نے کوئی جواب فراہم نہیں کیا، سابق ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس کی خود کشی سے ثابت ہوا کہ اوریجنل سی ڈی آر موجود نہیں ہے جبکہ نیشنل بنک کے افسران بھی تحقیقاتی کمیٹی کے سوالات پر مطمئن نہ کرسکے۔
ڈائریکٹر جنرل آر ڈی اے نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو بھجوائے گے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ آر ڈی اے کے افسران اور نیشنل بینک کے عملہ کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش کی جائے۔ ملزمان سے 1 ارب 94 کروڑ کی رقوم برآمد کر کے محکمے کو واپس کی جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ارب 94 کروڑ کے ذریعے آر ڈی اے
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔