حکومت کا سولر پینلز کی تنصیب کیلئے قواعد و ضوابط مرتب کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
ڈی جی، پی ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ طوفانی ہواؤں کے دوران پیش آنے والے 70 فیصد حادثات سولر پینلز یا ان سے منسلک تنصیبات کی وجہ سے ہوئے، جو غیر معیاری طریقے سے نصب کیے گئے تھے، ان کا کہنا تھا کہ کھلے ڈھانچوں یا چھتوں پر لگائے گئے پینلز جب حفاظتی اقدامات کے بغیر لگائے جائیں تو وہ آندھی میں پولز سے گر کر حادثات کا باعث بنتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پنجاب میں حالیہ آندھی اور طوفانی موسم کے دوران ہونے والے حادثات کے پیش نظر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سولر پینلز کی تنصیب کے لیے باقاعدہ قواعد و ضوابط اور راہنما اصول مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کی جانب سے انرجی ڈیپارٹمنٹ، لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور صوبہ بھر کے کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ طوفانی ہواؤں کے دوران پیش آنے والے 70 فیصد حادثات سولر پینلز یا ان سے منسلک تنصیبات کی وجہ سے ہوئے، جو غیر معیاری طریقے سے نصب کیے گئے تھے، ان کا کہنا تھا کہ کھلے ڈھانچوں یا چھتوں پر لگائے گئے پینلز جب حفاظتی اقدامات کے بغیر لگائے جائیں تو وہ آندھی میں پولز سے گر کر حادثات کا باعث بنتے ہیں۔
ڈی جی عرفان علی کاٹھیا نے زور دیا کہ آئندہ سولر پینلز کی تنصیب کو باقاعدہ سرٹیفائیڈ اور معیاری بنایا جائے تاکہ اس قسم کے خطرات سے بچا جا سکے، انہوں نے ہدایت کی کہ صوبہ بھر میں پہلے سے نصب شدہ پینلز اور ان کے ڈھانچوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور ان کی درستگی اور حفاظت کے حوالے سے ضروری ہدایات جاری کی جائیں۔ مزید برآں پی ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو مرمت، جانچ پڑتال اور باقاعدہ انسپکشن کے لیے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ریگولیٹری گائیڈ لائنز جاری کی جائیں تاکہ سولر پینلز کی تنصیب ایک محفوظ، مستحکم اور دیرپا عمل بن سکے، ان اقدامات کا مقصد مستقبل میں انسانی جان و مال کو ممکنہ نقصانات سے بچانا اور صوبے میں محفوظ توانائی کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سولر پینلز کی تنصیب پی ڈی ایم اے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔