پی ایس ایل کے پاک بنگلادیش سیریز میں ڈی آر ایس ٹیکنالوجی نہیں ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10ویں ایڈیشن کے پلے آف میچز کے بعد پاک بنگلادیش ٹی20 سیریز بھی ڈی آر ایس کے بغیر کھیلی جائے گی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاک بھارت کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے بعد براڈکاسٹنگ عملے میں شامل ڈی آر ایس ٹیکنالوجی آپریٹ کرنے والوں نے ملک کا رخ نہیں کیا تھا، جس کے باعث اہم ٹیکنالوجی میسر نہیں تھی۔
پی سی بی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ 3 میچز پر مشتمل پاکستان بنگلادیش کی ٹی20 سیریز میں بھی ڈی آر ایس ٹیکنالوجی استعمال نہیں ہوگی۔
مزید پڑھیں: پاک بنگلادیش سیریز؛ سیکیورٹی کی ذمہ داری پاک فوج کے سپرد
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے مہمان ٹیم کو بھی اس بارے میں آگاہ کردیا ہے۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل پلے آف میچز؛ ڈی آر ایس سمیت اہم ٹیکنالوجیز سے محروم
دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کی ٹرافی کی رونمائی آج ہوگی جبکہ دونوں ٹیموں کے کپتان بھی پریس کانفرنس میں حصہ لیں گے۔
مزید پڑھیں: پاکستان بمقابلہ بنگلادیش: ٹی 20 سیریز کے لیے ٹکٹوں کی قیمتوں کا اعلان
واضح رہے کہ ٹی20 میچز قذافی اسٹیدیم لاہور میں 28، 30 مئی اور یکم جون کو شیڈول ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔