پنجاب: کروڑوں روپے مالیت کا سرکاری اسلحہ و بارود غائب، محکمہ داخلہ کا انکوائری کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
محکمہ داخلہ پنجاب کی زیرنگرانی اداروں سے کروڑوں روپے مالیت کا اسلحہ اور بارود غائب ہونے پر محکمہ داخلہ نے نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کمیٹی قائم کردی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2021 سے 2024 کے دوران غائب ہونے والے سامان کی آڈٹ رپورٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ محکمہ داخلہ پنجاب کی زیرنگرانی اداروں سے کروڑوں روپے مالیت کا اسلحہ اور بارود غائب ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں محکمہ داخلہ پنجاب کی صوبہ بھر میں عوامی رابطہ کمیٹیوں کے قیام کی ہدایت
ترجمان کے مطابق سیکریٹری داخلہ نے اسلحے کی عدم موجودگی بارے میڈیا رپورٹ پر انکوائری کا حکم دیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی قائم کردی۔
ترجمان محکمہ داخلہ نے بتایا کہ انکوائری کمیٹی میں ڈائریکٹر جنرل مانیٹرنگ اور ایڈیشنل سیکریٹری جوڈیشل محکمہ داخلہ شامل ہیں۔
کمیٹی کو کہا گیا ہے کہ آڈٹ رپورٹ میں دی گئی بے ضابطگیوں پر بھی جواب جمع کروائیں۔ انکوائری کمیٹی 10 ایام میں انکوائری مکمل کر کے رپورٹ جمع کروائے گی۔
یہ بھی پڑھیں محکمہ داخلہ پنجاب کی صوبے کے 3 اضلاع میں رینجرز کی خدمات کے لیے وزارت داخلہ کو خط
ترجمان محکمہ داخلہ نے بتایا کہ محکمہ داخلہ پنجاب براہ راست اسلحہ ذخیرہ نہیں کرتا بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہوتا ہے، پنجاب میں تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے زیراستعمال اسلحے کے استعمال بارے ذمہ دار اور جواب دہ ہیں۔ انکوائری رپورٹ موصول ہونے پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسلحہ غائب انکوائری کمیٹی قائم ترجمان محکمہ داخلہ محکمہ داخلہ پنجاب مظفرآباد وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انکوائری کمیٹی قائم ترجمان محکمہ داخلہ محکمہ داخلہ پنجاب وی نیوز محکمہ داخلہ پنجاب کی انکوائری کمیٹی داخلہ نے
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔