شہری کو ٹک ٹاک پر شیروں کی نمائش مہنگی پڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
لاہور:
پنجاب وائلڈ لائف نے گجرانوالہ سے شہری کے قبضے سے غیر قانونی تحویل میں رکھے گئے دو شیر برآمد کیے ہیں، ملزم کے خلاف وائلڈلائف ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے شیر ضبط کر لیے گئے۔
اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں لقمان نامی شہری شیر کے گلے میں زنجیر ڈال کر اسے شہری آبادی میں گھوما رہا تھا اور ساتھ اسلحہ کی نمائش بھی کی جا رہی تھی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور خدشہ تھا کہ شیر کسی شہری پر حملہ کر سکتا ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر وائلڈ لائف رینجر شیخ زاہد اقبال کی ہدایت پر سینیئر وائلڈ لائف رینجر محمد عمیر کو ملزم کو تلاش کرکے کارروائی کی ہدایت کی جس پر نواحی علاقہ بٹالہ شرم سنگھ میں واقع فارم ہاؤس پر چھاپہ مارا جہاں سے غیرقانونی طور پر رکھے گئے دو شیر برآمد کیے گئے ہیں۔
سینیئر وائلڈ لائف رینجر محمد عمیر کے مطابق ملزم نے نہ ہی تو ان شیروں کو ڈکلیئر کیا ہے اور نہ ہی ان کے پاس لائسنس موجود تھا۔ فارم ہاؤس پر ایک ملزم محمد اکرم کے خلاف وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے تاہم ٹک ٹاک بنانے والے ملزم لقمان عرف لوہا کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔
واضع رہے کہ پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ 1974 ترمیم شدہ 2025 کے تحت بگ کیٹس کو شہری آبادیوں میں رکھنا اور ان کی نمائش جرم ہے۔ پنجاب وائلڈ لائف نے بگ کیٹس کو شہری آبادیوں میں رکھنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بگ کیٹس کے ساتھ بنائی گئی خطرناک ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان وائلڈ لائف
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔