شاہوں کے فیصلے ایسے ہی ہوتے ہیں!
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
ایک شاہ کا فیصلہ
1996ء کی بات ہے، سپریم کورٹ میں ’الجہاد ٹرسٹ بنام وفاقِ پاکستان‘ کے عنوان سے ایک بہت اہم مقدمے میں یہ سوال زیرِ بحث تھا کہ اگر اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی وزیرِ اعظم کی مرضی سے ہو، تو کیا اس سے عدلیہ کی آزادی کا اصول متاثر نہیں ہوتا، اور اگر ہوتا ہے تو جو آئینی دفعات بظاہر وزیرِ اعظم کو یہ اختیار دیتی ہیں، ان کی تعبیرِ نو کیسے کی جائے؟
ایک سوال یہ بھی تھا کہ آئین میں یہ تو لکھا ہوا موجود ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں میں سب سے سینئر جج کو قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر تعینات کیا جائے گا، لیکن کیا مستقل چیف جسٹس کے لیے بھی سب سے سینئر جج ہونا ضروری ہے؟
سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ آئین میں چونکہ یہ لکھا ہے کہ صدر ججوں کی تعیناتی چیف جسٹس کی ’مشاورت‘ سے کرے گا، اس لیے عدلیہ کی آزادی کے اصول کو مدّ نظر رکھتے ہوئے قرار دیا جاتا ہے کہ یہاں ’بامعنی مشاورت‘ مراد ہے اور صدر بغیر کسی ٹھوس وجہ کے، جسے تحریر میں لانا ضروری ہے، چیف جسٹس کی جانب سے نامزدگی کو مسترد نہیں کرسکتا۔ سپریم کورٹ نے مزید یہ قرار دیا کہ قائم مقام چیف جسٹس کی طرح مستقل چیف جسٹس کا بھی سب ججوں میں سینئر ہونا لازم ہے۔
اس فیصلے نے ایسی ہلچل مچادی جس کا اثر 3 عشروں کے بعد آج بھی نظر آتا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو وزیرِ اعظم تھیں۔ انھوں نے پارلیمان کے اجلاس میں اس فیصلے کو ججوں کی جانب سے ’آئین سازی‘ قرار دیا۔ تاہم سب سے دلچسپ تبصرہ ایک سابق چیف جسٹس کا تھا جنھوں نے صحافیوں کے پوچھنے پر کہا کہ ’شاہوں کے فیصلے ایسے ہی ہوتے ہیں!‘
اس جملے میں شوخی کے علاوہ ایک نوع کی تعلّی بھی تھی کیونکہ یہ چیف جسٹس خود بھی ایک ’شاہ‘ تھے اور 3 سال قبل انھوں نے بھی ایک فیصلہ سنایا تھا جس سے اچھی خاصی تھرتھلی مچی تھی۔ وہ فیصلہ میاں نواز شریف کی بطورِ وزیرِ اعظم بحالی کا تھا۔
ایک اور شاہ کا فیصلہ
صدر غلام اسحاق خان 1990ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کرچکے تھے۔ لاہور ہائیکورٹ سے بات سپریم کورٹ تک پہنچی، لیکن حکومت بحال نہیں ہوسکی اور نئے انتخابات کرانا پڑے۔ تاہم جب 1993ء میں صدر غلام اسحاق خان نے یہی حرکت دہرائی اور میاں نواز شریف کی حکومت ختم کی، تو ایک تو مقدمہ براہِ راست سپریم کورٹ نے سنا اور پھر سن کر نواز شریف کی حکومت بحال بھی کردی۔ شاہوں کے فیصلے ایسے ہی تو ہوتے ہیں!
تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس موقع پر ایک شاہ صاحب، جو چیف جسٹس تھے، حکومت بحال کرنے کے حق میں تھے؛ اور دوسرے شاہ صاحب، جو جج تھے، حکومت بحال کرنے کے خلاف تھے۔ یہ مخالفت والی بات بھلا میاں نواز شریف کیسے بھول سکتے تھے!
دوسرے شاہ اپنے فیصلے کی زد میں!
1997ء میں میاں نواز شریف کی دوسری حکومت بننے کے کچھ ہی عرصے بعد حکومت اور سپریم کورٹ کے تعلقات خراب ہوگئے جس میں ایک اہم سبب انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ تھا۔ اس فیصلے کے کچھ ہی عرصے بعد سپریم کورٹ میں ججوں اور چیف جسٹس شاہ کے درمیان اختلافات اس حد تک بڑھ گئے کہ بعض ججوں نے چیف جسٹس کو کام سے ہی روک دیا اور پھر ان کو چیف جسٹس کے عہدے سے ہی ہٹا دیا گیا۔ اس ہٹا دیے جانے کے لیے ’الجہاد ٹرسٹ مقدمے‘ میں شاہوں والا فیصلہ ہی استعمال کیا گیا کیونکہ شاہ صاحب خود ججوں میں سب سے سینئر نہ ہونے کے باوجود چیف جسٹس بنائے گئے تھے!
پہلے شاہ کا بھٹو کے عدالتی قتل میں حصہ
دوسروں کے لیے انصاف کے اعلیٰ معیار قائم کرتے ہوئے خود کو بھول جانے کی روش صرف دوسرے شاہ صاحب ہی کی نہیں تھی، بلکہ پہلے شاہ صاحب بھی اسی روش پر گامزن رہے تھے۔ ان کے اس دہرے معیار کی سب سے بڑی مثال ان کا وہ فیصلہ تھا جس کے ذریعے انھوں نے جناب ذو الفقار علی بھٹو کی سزائے موت یقینی بنا دی تھی۔ 3 جج بھٹو کو بری کرنے کے حق میں تھے، جبکہ 3 کے نزدیک ان کا جرم ثابت شدہ تھا اور جب شاہ صاحب بھی ان کے ساتھ ہوگئے، تو سزا دینے والوں کی تعداد 4 ہوگئی۔ یوں 3 کے مقابلے میں 4 کی اکثریت سے بھٹو کو مجرم قرار دے کر انھیں سزائے موت سنائی گئی۔ بعد میں شاہ صاحب نے ایک انٹرویو میں اقرار کیا کہ ان پر اس فیصلے کے وقت دباؤ تھا، لیکن کیا کریں کہ شاہوں کے فیصلے تو ایسے ہی ہوتے ہیں!
تیسرے شاہ کے تضادات
شاہوں کے ایسے فیصلوں اور ان میں تضادات کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور آج بھی ایک شاہ صاحب اپنے ہی فیصلوں کا شکار نظر آتے ہیں۔
2023ء میں ججوں کی تعیناتی کے لیے آئینی ادارے جیوڈیشل کمیشن نے اپنے قواعد پر نظرِ ثانی کے لیے ایک کمیٹی شاہ صاحب کی سربراہی میں قائم کی۔ اس کمیٹی نے 2024ء میں نئے قواعد کا مسودہ تیار کیا، تو اس میں طے کیا کہ ہائیکورٹ میں سب سے سینئر جج کی چیف جسٹس کے طور پر تعیناتی ضروری نہیں ہے، بلکہ 3 سینئر ججوں میں کسی ایک کو چیف جسٹس بنانا چاہیے۔
جیوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں شاہ صاحب نے یہ بھی کہا کہ ضروری نہیں کہ جو اچھا جج ہو، وہ چیف جسٹس بھی بنے کیونکہ چیف جسٹس کے پاس انتظامی امور بھی ہوتے ہیں۔ یہ قواعد کبھی منظور نہیں ہوئے لیکن اس کے باوجود جب لاہور ہائیکورٹ کے لیے چیف جسٹس کی تعیناتی کا مسئلہ آیا، تو شاہ صاحب نے اس اصول پر عمل کرتے ہوئے 2 سینئر ججوں کو چھوڑ کر تیسرے نمبر پر موجود جج صاحبہ کو چیف جسٹس بنانے کے حق میں ووٹ دیا۔ چند ہی دنوں بعد آئین میں26ویں ترمیم کے ذریعے یہی اصول سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے لیے طے کیا گیا اور خود شاہ صاحب اس کی زد میں آگئے!
مکمل انصاف یا عبوری انصاف
شاہوں کے فیصلے چونکہ مرضی کے فیصلے ہوتے ہیں، شاید اس لیے قانونی اصولوں کا یکساں اطلاق ان کے نزدیک غیر ضروری ہوتا ہے؛ جب مرضی ایک اصول لے لیا، پھر اسے چھوڑ کر ایک اور اصول لےلیا۔
مثلاً موجودہ شاہ صاحب نے پچھلے سال ایک فیصلے میں ’مکمل انصاف‘ کا اصول استعمال کرتے ہوئے اس سیاسی پارٹی کو داد رسی فراہم کی جو مقدمے میں عدالت کے سامنے بطورِ فریق آئی ہی نہیں تھی، اور ’مکمل انصاف‘ کی تلوار استعمال کرتے ہوئے شاہ صاحب نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ اس سیاسی پارٹی کو جو داد رسی وہ فراہم کررہے ہیں، اس کا اختیار ان کے پاس ہے بھی یا نہیں، نہ ہی انھوں نے یہ دیکھا کہ فیصلہ لکھ چکنے اور جاری کرچکنے کے بعد اس فیصلے کی وضاحت کے لیے ایک کے بعد دوسرا نوٹ وہ کس اختیار کے تحت جاری کرسکتے ہیں۔ تاہم اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات ان کے اس اضافی نوٹ میں سامنے آئی جو انھوں نے بھٹو کی سزائے موت کے متعلق صدارتی ریفرنس میں لکھا جس میں انھوں نے ’مکمل انصاف‘ کے بجائے ’عبوری انصاف‘ کا تصور استعمال کیا اور بتایا کہ جہاں آئین سے انحراف کی وجہ سے نظام قانون کے مطابق نہ چلایا جاسکتا ہو، وہاں عبوری انصاف پر عمل کیا جاتا ہے۔
ایسا لکھتے ہوئے وہ نہ صرف یہ بھول گئے کہ ابھی کچھ ہی عرصہ قبل وہ مکمل انصاف کی بات کررہے تھے، بلکہ یہ بھی بھول گئے کہ جس وقت ان کے سامنے بھٹو ریفرنس آیا، اس وقت آئین سے انحراف کرنے والے جنرل ضیاء الحق کی موت کو 36 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا تھا، چنانچہ کم از کم اس معاملے میں انھیں عبوری انصاف کے بجائے مکمل انصاف کے اصول پر فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔
بحیثیت قانون کے ایک طالب علم کے، مجھے شاہ صاحب کے ان 2 فیصلوں سے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کے نزدیک آج کے پاکستان میں ججوں کو مقدمے کے فریقوں کے ساتھ مکمل انصاف کرنا چاہیے یا عبوری انصاف پر ہی گزارا کرنا چاہیے؟
اسلامی قانون یا مغربی تصورات؟
یہ مخمصہ ایک اور بنیادی مسئلے میں بھی نظر آتا ہے۔ آئین کی رو سے پاکستان ایک ’اسلامی جمہوریہ‘ ہے اور یہاں کے تمام قوانین کو اسلامی احکام کے ساتھ ہم آہنگ کرنا لازم ہے۔ چنانچہ شاہ صاحب اس 10 رکنی اکثریت میں شامل تھے جس نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے متعلق فیصلے (’راجا عامر بنام وفاقِ پاکستان‘) میں طے کیا تھا کہ جب کسی قانون کی 2 تعبیرات ممکن ہوں، تو عدالت پر وہ تعبیر اختیار کرنا لازم ہے جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو۔ پھر جب ایک اور مقدمے میں تاحیات نا اہلی کا سوال شاہ صاحب کے سامنے آیا، تو انھوں نے ایک بار پھر اس اصول کی تصریح کی اور عدالتوں پر اس کی پابندی لازم ٹھہرائی (’حمزہ رشید خان بنام الیکشن اپیلیٹ ٹریبیونل‘)۔
تاہم چیف جسٹس کے عہدے سے محرومی کے بعد ان کے فیصلوں میں مسلسل اس اصول کی خلاف ورزی نظر آرہی ہے۔ یہ خلاف ورزی خاندان سے متعلق مقدمات اور شخصی امور میں بھی نظر آتی ہے حالانکہ ایسے مقدمات کے لیے تو نہ صرف مسلم پرسنل لا (شریعت) ایپلی کیشن ایکٹ کی دفعہ 2 کے تحت شریعت ہی ’فیصلے کا قانون‘ ہے، بلکہ آئین کی دفعہ 227 کی توضیح کے تحت مسلمانوں کے شخصی قانون کو ایسا آئینی تحفظ حاصل ہے کہ وفاقی شرعی عدالت بھی اس میں مداخلت نہیں کرسکتی، جیسا کہ سپریم کورٹ ہی ’ڈاکٹر محمود الرحمان فیصل مقدمے‘ میں طے کرچکی ہے۔
اس کے باوجود ایسے کئی مقدمات میں شاہ صاحب نے اسلامی قانون کا یا تو، محض بھرتی کے لیے، سرسری حوالہ دیا، یا سرے سے حوالہ ہی نہیں دیا اور اس کے بجائے بین الاقوامی معاہدات کی دفعات اور مغربی دانشوروں کے تصورات نقل کرکے انھیں پاکستان کے قانونی نظام کا حصہ بنانے کی کوشش کی۔ ایسا کرتے ہوئے شاہ صاحب یہ اصول بھی بھول جاتے ہیں کہ پاکستان ایک dualist ملک ہے جس میں بین الاقوامی معاہدات کی دفعات کو عدالت نافذ نہیں کرسکتی جب تک ان دفعات کو باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے ملکی قانونی نظام میں سمویا (incorporate) نہ جائے۔ سوال یہ ہے کہ شاہ صاحب ایسا کیوں کررہے ہیں؟ یا شاہوں کے فیصلے ایسے ہی ہوتے ہیں؟
ہمارے عدالتی نظام میں ایک اور شاہ بھی ہیں لیکن وہ فیصلے کرنے سے زیادہ فیصلے نہ کرنے اور انھیں لٹکائے رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تاکہ مناسب موقع آنے پر مفید ہوا تو یوں فیصلہ کرلیں، ورنہ ووں کرلیں گے؛ اور مناسب موقع نہ ہو، تو سرے سے فیصلہ ہی نہیں کریں گے۔ان کے کیے گئے اور لٹکائے گئے فیصلوں پر ٍالگ سے بات کی ضرورت ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد شفاء تعمیرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر اور سربراہ شعبۂ شریعہ و قانون ہیں۔ اس سے پہلے آپ چیف جسٹس آف پاکستان کے سیکرٹری اور شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ آپ سول جج/جوڈیشل مجسٹریٹ کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں۔ آپ اصولِ قانون، اصولِ فقہ، فوجداری قانون، عائلی قانون اور بین الاقوامی قانونِ جنگ کے علاوہ قرآنیات اور تقابلِ ادیان پر کئی کتابیں اور تحقیقی مقالات تصنیف کرچکے ہیں۔
محمد مشتاق احمد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: محمد مشتاق احمد میاں نواز شریف کی ایسے ہی ہوتے ہیں بین الاقوامی عبوری انصاف چیف جسٹس کی چیف جسٹس کے شاہ صاحب نے حکومت بحال مکمل انصاف کی تعیناتی سپریم کورٹ کرتے ہوئے اس فیصلے انھوں نے ایک اور ججوں کی میں شاہ کے ساتھ کورٹ کے یہ بھی کے بعد کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔
کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔
کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔
سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔
کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔
مزید :