(سندھ بلڈنگ ) ڈائریکٹر جنرل شاہ میر بھٹو ،کھوڑو سسٹم کا مہر ہ ثابت
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
نارتھ ناظم آباد بلاک آئی ، پلاٹ نمبر بی اے 91 اور اے193 پر خلاف قانون تعمیرات
ڈائریکٹر ضیاء کی سرپرستی درجنوں پلاٹوں سے خطیر رقم وصولی کا انکشاف ، سسٹم کی سرپرستی
سندھ بلڈنگ ڈائریکٹر جنرل شاہ میر خان بھٹو کھوڑو سسٹم کو پٹہ ڈالنے میں ناکام وسطی میں جاری غیر قانونی دھندوں کو سید ضیا کی سرپرستی نارتھ ناظم آباد میں درجنوں پلاٹوں سے خطیر رقم اینٹھ لی گئی بلاک آئی پلاٹ نمبر بی اے 91 اور اے 193 پر بلڈنگ قوانین کے بر خلاف تعمیرات کی چھوٹ جرآت سروے ٹیم کی موقف لینے کی کوشش ناکام ۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں تعینات ہونے والے ڈائریکٹر جنرل شاہ میر خان بھٹو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں رائج کھوڑو سسٹم کو پٹہ ڈالنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں زمینی حقائق کے مطابق کراچی میں جاری غیر قانونی دھندوں کی روک تھام کے لئے کوئی عملی اقدام اب تک عمل میں نہ لایا جا سکا ہے بلڈنگ افسران ناجائز تعمیرات کی چھوٹ دینے اور محکمہ جاتی کاروائیوں سے بالا تر دکھائی دیتے ہیں وسطی میں ڈائریکٹر سید ضیا کے جاری غیر قانونی دھندوں کے تمام تر ثبوت زمین پر موجود ہیں جرآت سروے ٹیم کی جانب سے موقف لینے کے لئے ڈائریکٹر سید ضیا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ ممکن نہ ہو سکااسوقت بھی نارتھ ناظم آباد کے بلاک آئی میں پلاٹ نمبر بی اے 91 اور اے 193 پر عدالتی احکامات کے بر خلاف تعمیرات کی چھوٹ خطیر رقوم بٹورنے کے بعد دے دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سندھ بلڈنگ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔