اسلام آباد:

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ ایٹمی طاقت بننا محض ہماری تکنیکی ترقی کا مظہر نہیں تھا بلکہ ایٹمی طاقت کا حصول قوت کے ذریعے امن قائم رکھنے کا دانشمندانہ فیصلہ تھا۔

اپنے پیغام میں صدر نے کہا کہ یوم ِتکبیر کے اہم موقع پر پوری قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں، آج ہم نے اپنی جوہری صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور تزویراتی دفاعی طاقت حاصل کی۔ آج ہم ملکی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کا عزم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایٹمی پروگرام سے منسلک سائنسدانوں، انجینئرز اور سول اور فوجی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جبکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے پر شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراج ِتحسین پیش کرتے ہیں۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سرپرستی میں ہمارا ایٹمی پروگرام مزید آگے بڑھا اور مضبوط ہوا۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ بدلتی علاقائی سلامتی کی صورت حال میں ہماری جوہری طاقت ایک قابل اعتبار کم از کم دفاعی صلاحیت ہے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت امن کی ضامن ہے جو اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ کوئی ہماری خودمختاری اور قومی سلامتی کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ پاکستان جنگ کا خواہاں نہیں، پرامن بقائے باہمی اور عالمی قوانین کے احترام کے اصولوں پر کاربند ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ حالیہ بلا اشتعال بھارتی جارحیت کے پیش نظر پاکستان نے تزویراتی تحمل اور امن کے عزم کا مظاہرہ کیا۔ آپریشن بُنیانُ مَّرصوص کے تحت ہمارے نپے تلے اور مؤثر ردِ عمل نے دشمن کو اپنی معاندانہ کارروائیاں بند کرنے پر مجبور کیا۔ یومِ تکبیر پر ایک بار پھر عہد کریں کہ ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ کریں گے۔

وزیراعظم کا پیغام

وزیراعظم شہبازشریف نے یوم تکبیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں آج کے دن پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور دل کی گہرائیوں سے پوری قوم، پاکستان سے محبت کرنے والوں کو یوم تکبیر کی مبارک باد پیش کرتا ہوں کیونکہ آج سے 27 برس قبل پاکستان کو دنیا کی ساتویں اور مسلمان ممالک میں پہلی ایٹمی قوت بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اس بار پاکستان 'یومِ تکبیر' ایک اہم اور تاریخی موقع پر منارہا ہے جب بھارت کی مسلط کردہ بلاجواز جنگ میں، پاکستان اللہ تعالی کے فضل وکرم سے 6 سے 10 مئی کے معرکہء حق میں سرخرو اور فتح یاب ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ فتح مبین سے سرشار قوم کے لیے یوم تکبیر کی مسرتوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، جس پر ہم رب ِعظیم کے حضور سجدہ شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہمیشہ پاکستانی قوم کو اپنے خصوصی کرم سے سرفراز فرمایا ہے۔

شہباز شریف نے بتایا کہ مئی 1998 میں پوکھران میں بھارت نے پانچ ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کی سلامتی، دفاع اور خودمختاری کے لئے چیلنج پیدا کردیا تھا، جس پر میرے قائد اور اُس وقت کے وزیراعظم محمد نوازشریف نے پوری قوم کی امنگوں اور قومی مفادات کی ترجمانی کی، اقتصادی پابندیوں، دباﺅ، دھمکیوں اور لالچ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے، 1998 میں بھارت کے پانچ کے مقابلے میں چھ دھماکے کرکے پاکستان کو ایٹمی ملک اور جغرافیائی سرحدوں کو ہمیشہ کے لئے ناقابل تسخیر بنا دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم ،ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر نواز شریف تک جنہوں نے اس پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا انہیں ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھے گی۔ بلوچستان میں چاغی کے پہاڑوں سے اللہ اکبر کی بلند ہونے والی صَدا آج بھی پاکستانی قوم کا عہد بن کر گونج رہی ہے اور اس مقصد کے لئے پورا پاکستان متحد تھا ۔ یہی شاندار روایت بھارت کے حالیہ بلا جواز حملوں کے خلاف قوم نے ایک مرتبہ پھر دہرائی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج کے یومِ عظیم پر میں، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے والے ذوالفقارعلی بھٹو، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، سائنسدانوں، انجینئرز ، افواج پاکستان اور قومی اداروں سمیت اس پروگرام میں اپنا حصہ ڈالنے والے تمام معماروں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں قوم کو سلام پیش کرتا ہوں جس نے جوہری پروگرام کی تکمیل کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں اور اپنے عزم وہمت کی قابل فخر داستان لکھی۔ میں اپنی مسلح افواج کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے پاکستان کے نیوکلیئر اثاثوں کی بھرپور حفاظت کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ یوم تکبیر، بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں کے اُس عہد کا تسلسل ہے جس کے تحت پاکستان جیسی عظیم مملکت خداداد وجود میں آئی۔ قومی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کی عوام اور سیاسی قیادت نے اپنے آہنی ارادوں اور ہماری بہادر مسلح افواج نے اپنی دلیری، شجاعت اور عسکری مہارت سے ہمیشہ ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں آگے بڑھنے اورسنگین ترین مشکلات کا سینہ چیر کر مقصد کو پالینے کا جذبہ ہی پاکستان کی اصل قوت ہے ۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ یوم تکبیر قوم کے اتحاد اور اپنی آزادی وخودمختاری پر سمجھوتا نہ کرنے کے اعلان کا دِن ہے ۔ آج کے دن ہم عہد کرتے ہیں کہ پاکستان کو ایک معاشی قوت اور اور دنیا میں پاکستان کو اُس کا حقیقی مقام دلائیں گے۔ انشاءاللہ

چیئرمین پیپلز پارٹی

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یوم تکبیر کے موقع پر ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے والے سائنسدانوں، انجینئرز، مسلح افواج اور دور اندیش سیاسی قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے، بالخصوص پاکستان کے پہلے منتخب وزیرِاعظم قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے جنہوں نے عالمی دباؤ اور مخالفت کے باوجود پاکستان کے جوہری پروگرام کی بنیاد رکھی۔

میڈیا سیل بلاول ہاؤس سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، پی پی پی چیئرمین نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یومِ تکبیر صرف فخر کا دن نہیں بلکہ ہماری قوم کے اس غیر متزلزل عزم کی علامت ہے کہ ہم اپنی خودمختاری، وقار اور مستقبل کے تحفظ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب ایک قوم متحد ہو، اس کی قیادت دوراندیش ہو، سائنسی برتری سے مضبوط ہو اور اپنی بہادر افواج کی حفاظت میں ہو، تو وہ ہر چیلنج کا مقابلہ کر سکتی ہے اور اپنے مقدر کو وقار اور قوت کے ساتھ اپنی تقدیر خود لکھ سکتی ہے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی دور اندیشی اور بے مثال جرات تھی جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا خواب دکھایا اور اس کے لیے عملی بنیاد فراہم کی۔ انہوں نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے اپنے ادوارِ حکومت میں دانائی اور بصیرت کے ساتھ جوہری پروگرام کو محفوظ رکھا اور اس کی پیشرفت کو یقینی بنایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا ایٹمی دفاع ان شہداء کی امانت اور ان کی بے مثال قربانیوں کی علامت ہے، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط ڈھال ہے۔ ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کے پیچھے کتنی جدوجہد اور قربانیاں ہیں۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ ایک مضبوط، خوددار اور محفوظ پاکستان کے لیے کھڑی رہی ہے اور کھڑی رہے گی، نہ صرف عسکری طاقت میں بلکہ معیشت، جمہوریت اور سماجی انصاف کے محاذ پر بھی۔

شرجیل میمن

یومِ تکبیر کے موقع پر سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اپنے پیغام میں کہا کہ 28 مئی ہماری قومی تاریخ کا وہ سنہری دن ہے جب پاکستان نے دنیا کو پیغام دیا کہ ہم خودمختار اور ناقابلِ تسخیر قوم ہیں۔ آج کا دن ہمارے لیے فخر کا دن ہے، جب پاکستان پہلی اسلامی ایٹمی قوت کے طور پر سامنے آیا۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یومِ تکبیر کے عظیم موقع پر شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جنہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔ عالمی دباؤ اور شدید مخالفت کے باوجود، شہید بھٹو نے ثابت قدمی، دور اندیشی اور جرات مندی سے پاکستان کو دفاعی لحاظ سے ناقابلِ شکست بنانے کی راہ ہموار کی۔

انہوں نے کہا کہ شہید بھٹو کا یہ تاریخی جملہ کہ ’’ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے‘‘ آج بھی ہماری قومی غیرت اور خودداری کی پہچان ہے۔ ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے والد کے وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے ملک کو جدید میزائل ٹیکنالوجی سے بھی آراستہ کیا۔

شرجیل میمن نے کہا کہ پاکستان کے دفاعی نظام کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں شہید بھٹو اور شہید بی بی کا کردار انتہائی کلیدی اور ناقابلِ فراموش ہے۔ شہید بھٹو کی قیادت میں پاکستان نے ایک ایسا خواب حقیقت میں بدلا جو آج ہماری سلامتی کی ضمانت ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے یوم تکبیر پر پاکستانی قوم اور امت مسلمہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ 27 سال گزر گئے مگر آج پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہے اور سر بلند رہے گا۔ دشمن پاکستان کی سرزمین کی طرف میلی نظر سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی قوت بننا پوری امت مسلمہ کا فخر ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کو پوری دنیا میں پہلی مسلمان ایٹمی قوت بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔

مریم نواز نے کہا کہ 10 مئی کی فتح کی بنیاد 28مئی 1998ء کو رکھی گئی، 28 مئی کو چاغی کے پہاڑوں میں لگائے نعرہ تکبیر کی گونج آج بھی وطن عزیز کی فضاؤں میں موجود ہیں۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ قوم آج بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کی ممنون ہیں، دشمن کو جب بھی منہ توڑ جواب ملا، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی۔ ایٹمی دھماکے پرامن اور محفوظ پاکستان کی ضمانت ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شہید ذوالفقار علی بھٹو پروگرام کی بنیاد انہوں نے کہا کہ اپنے پیغام میں ایٹمی پروگرام پاکستانی قوم بھٹو کو خراج پاکستان کو ا پیش کرتا ہوں پاکستان کے کہ پاکستان ایٹمی طاقت نے پاکستان پاکستان کی کہا کہ یوم ایٹمی قوت شہید بھٹو یوم تکبیر تحسین پیش تکبیر کے جنہوں نے کرتے ہیں نے اپنے شریف نے ہے اور آج بھی کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار