28 مئی کو پاکستان ایٹمی ملک بنا، یہ دن کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں، شیخ وقاص اکرم
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ 28 مئی کو پاکستان ایٹمی ملک بن کر سامنے آیا، یہ دن کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ دن تمام سائنسدان اور جو لوگ اس میں شریک تھے ان کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے، پاکستان کو ایٹمی ملک بنانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور درجنوں سائنسدانوں نے دہائییوں کام کیا ہے، ہم ان تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ ہم بحیثیت پارٹی ان تمام ہیروز کو سلام پیش کرتے ہیں، ڈاکٹر عبد القدیر خان کو مجبور کیا گیا کہ ٹی وی پر آکر معزرت کریں، بانی پی ٹی آئی واحد لیڈر تھے جنہوں نے اس کی مذمت کی، ڈاکٹر عبد القدیر خان ہمارے قومی ہیرو تھے ہیں اور رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی پریس کانفرنس 26 ویں ترمیم کے زکر کے بغیر نامکمل ہے، انصاف نا پید ہوگیا ہے، عدالتی عمل سست روی کا شکار ہے، 26 ویں ترمیم آئین کی قبر ہے اور عدلیہ کی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہے، یہ ترامیم آئین کے اصولوں کے خلاف ہے، ججز کی تقرری کے فیصلے متنازع ہیں، انصاف کی چوری ہورہی ہے، بانی پی ٹی آئی کا کیس لگوانے کے لیے ہمیں احتجاج کرنا پڑتا ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز کی شنوائی کے لیے سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے اراکین صوبائی اسمبلی سمیت اراکین قومی اسمبلی نے بھی احتجاج کیا، ہمارے سے قائم مقام چیف جسٹس نے وعدہ کیا لیکن وعدہ وفا نہیں کیا گیا، ممبر پارلیمنٹ کی کوئی عزت نہیں، انصاف لینے کے لیے گرمی میں سڑنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا لیڈر ناحق قید ہے، کیسز کو سن تو لیا جائے، کیا اس کے لیے پورے ملک کی اپوزیشن کو احتجاج کرنا پڑے گا؟ عدلیہ پاکستان میں بے بس ہوچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں پاکستان میں عدلیہ کی صورتحال سے متعلق لوگ باتیں کر رہے ہیں، ہم صرف اپنے لیڈر کی رہائی چاہتے ہیں، ابھی جنگ ہوئی اس قوم نے اپنے سے کئی گناہ بڑے دشمن کو شکست دی، مودی ایک گھٹیا انسان ہے، بانی پی ٹی آئی نے بار بار کہا کہ مودی گھٹیا انسان ہے یہ دوبارہ بے غیرتی کرے گا۔
شیخ وقاص نے کہا کہ اس ملک کے لیے ہمارا مال ، جان اور بچے بھی قربان ہے، ہمیں متحد ہونا ہوگا، امن کے دور میں بھی ہمیں ہمارا حق دیا جائے، فارم 47 کی حکومت سیاسی جماعت پر ظلم و بربریت بند کرے، اب بینچ دیکھ کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ فیصلہ کیا آئے گا، ہمارے وکلاء ہمیں بتا دیتے ہیں، یہ سسٹم ننگا ہوگیا ہے، ہم آخری گیند تک لڑیں گے، دنیا دیکھ رہی ہے اور ہم ہتھیار نہیں پھینکیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ہار نہیں مانیں گے، 26 ویں ترمیم کو ختم کرنا ہوگا، اس سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے، ہر چیز کا جنازہ نکل جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔