چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کمی کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
لاہور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ 28 مئی 2025ء ) چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کمی کا امکان، حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پرانی گاڑیوں کی امپورٹ پر عائد ٹیکسوں میں ریلیف دیے جانے کا امکان، گاڑیاں سستی ہو جائیں گی۔ تفصیلات کے مطابق آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں استعمال شدہ گاڑیوں کی امپورٹ پر ڈیوٹیز میں نمایاں کمی آئے گی اور تین سال کی ایج لیمٹ کو پانچ سال تک بڑھانے کا فیصلہ متوقع ہے جس کے بعد چھوٹی گاڑیوں کی قیمت میں 5 سے دس لاکھ روپے کمی کا امکان ہے اور چھوٹی گاڑی 20 لاکھ روپے سے کم میں دستیاب ہوگی۔
بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ پانچ سال کے دوران استعمال شدہ گاڑیوں پر عائد بھاری ڈیوٹیز اور ٹیکسز کو بتدریج کم کیا جائے گا اور سیلز ٹیکس یا کسٹمز ڈیوٹی میں سے کسی ایک شکل میں مسابقتئ ٹیکس عائد ہوگا۔(جاری ہے)
اس وقت گاڑیوں پر مجموعی ڈیوٹیز 96 فیصد سے لے کر 475 فیصد ڈیوٹی عائد ہے جنہیں آئندہ پانچ سال میں بتدریج ہر سال 20 فیصد کم کیا جائے گا۔
چیئرمین موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے پانچ سال پرانی گاڑیوں کی امپورٹ اور کمرشل بنیادوں پر درآمد کی اجازت دے دی تو گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑا فرق آئے گا، جاپان میں پانچ سال پرانی گاڑی تین سال پرانی گاڑی کے مقابلے میں تقریباً آدھی قیمت پر دستیاب ہوتی ہے، اس وقت اگر تین سال پرانی گاڑی آٹھ ہزار ڈالر کی ہے تو پانچ سال پرانی گاڑی ساڑھے تین یا چار ہزار ڈالر کی مل سکتی ہے۔ اس طرح قیمتوں میں 5 سے 10 لاکھ روپے تک کمی کا امکان ہے۔ ایچ ایم شہزاد کا کہنا ہے کہ اگر مجوزہ اقدامات نافذ ہو جاتے ہیں تو چھوٹی گاڑیوں کی قیمت میں 5 سے 10 لاکھ روپے تک کی کمی آ سکتی ہے۔ ان کے بقول ااس وقت پاکستان میں اسمبل کی جانے والی سب سے چھوٹی کار کی قیمت 31 لاکھ روپے ہے جبکہ یہی گاڑی پڑوسی ملک میں محض پونے چار لاکھ روپے میں دستیاب ہے، کرنسی کی قدر کا فرق بھی ختم کرلیں تو پاکستانی تیرہ لاکھ روپے میں پڑتی ہے، اگر ڈیوٹیز اور ایج لیمٹ میں نرمی کی گئی تو پاکستانی عوام کو 20 لاکھ روپے سے کم میں بہتر معیار کی جاپانی گاڑی مل سکے گی۔ ایچ ایم شہزاد کے مطابق اگر حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کو من و عن مانتی ہے تو آئندہ مالی سال استعمال شدہ گاڑیوں کی امپورٹ 70 سے 80 ہزار یونٹس تک جاسکتی ہے، جو اس وقت 30 ہزار کے لگ بھگ ہے، اس سے حکومت کو ریونیو میں بھی خاطرخواہ اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا ہے گاڑیوں کی درآمد بڑھنے سے حکومت کو ملنے والے محصولات میں 70 فیصد تک اضافہ ہوگا، مجوزہ اقدامات سے نہ صرف گاڑیاں سستی ہوں گی بلکہ مقامی اسمبلرز کی اجارہ داری بھی ختم ہوگی، جس کے بعد انہیں معیار بہتر بنانے اور مکمل مینوفیکچرنگ کی طرف جانا پڑے گا، ملک میں لوکلائزیشن نہیں ہوسکی، ہم آج بھی سی کے ڈی کٹس پر انحصار کرتے ہیں اگر مسابقت آئی تو لوکل اسمبلرز کو خود کو بہتر بنانا ہوگا، اس طرح درآمدی گاڑیوں کی امپورٹ پر ڈیوٹی کے خاتمے اور ایج لمٹ بڑھنے سے مقامی مارکیٹ میں مسابقت بڑھے گی جس سے لوکل انڈسٹری خود کو مضبوط بناسکے گی ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئی ایم ایف کی تجاویز کو بجٹ میں شامل کیا گیا تو یہ پاکستان کی آٹو انڈسٹری، عوام اور حکومت تینوں کے لیے بڑا اور مثبت قدم ثابت ہوسکتا ہے۔ عوام کو میاری گاڑیاں سستی قیمتوں میں میسر آئیں گی، حکومت کو ریونیو حاصل ہوگا اور اسمبلرز کو بین الاقوامی معیار کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑے گا۔ ایچ ایم شہزاد کا کہنا ہے کہ یہ اقدام انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے ہوئے معاہدے کی روشنی میں کیا جائے گا، جس کے تحت پاکستان نے گاڑیوں کی امپورٹ سے متعلق شرائط تسلیم کی ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے گاڑیوں کی امپورٹ سال پرانی گاڑی ایچ ایم شہزاد کمی کا امکان آئی ایم ایف چھوٹی گاڑی قیمتوں میں کا کہنا ہے لاکھ روپے پانچ سال
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔