الہام علیوف کا پاکستان میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
صدر آذربائیجان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت کشیدگی ہمارے لئے انتہائی پریشان کن تھی، تنازعات کو پر امن طریقے سے حل کرنا چاہیے، پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جنگ میں آذربائیجان نے پاکستان سے مکمل اظہار یکجہتی کیا۔ اسلام ٹائمز۔ صدر آذربائیجان الہام علیوف نے پاکستان میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کر دیا۔ لاچین میں پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان سہ افریقی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کا کہنا تھا کہ پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان مشترکہ تاریخ اور ثقافت میں بندھے ہیں، تینوں ممالک مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے مل کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے سرمایہ کاری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آذربائیجان پاکستان میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، سرمایہ کاری کے منصوبوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2020ء میں ہونے والی جنگ میں ترکیہ اور پاکستان نے ہماری بھرپور مدد کی، پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاع سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دے رہے ہیں، تینوں ملکوں کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کے وسیع امکانات ہیں، دفاعی شعبے میں تعاون علاقائی استحکام کیلئے اہم ہے، ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ سیاحت کے شعبے میں بھی کام کرنا چاہتے ہیں۔
صدر الہام علیوف کا کہنا تھا کہ پاک بھارت کشیدگی ہمارے لئے انتہائی پریشان کن تھی، تنازعات کو پر امن طریقے سے حل کرنا چاہیے، پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جنگ میں آذربائیجان نے پاکستان سے مکمل اظہار یکجہتی کیا۔سہ فریقی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ ترکیہ، پاکستان اور آذربائیجان کا یہ دوسرا سہ فریقی اجلاس ہے، آذربائیجان کو ان کے یوم آزادی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، یقین ہے آذربائیجان کے آزاد ہونے والے علاقوں میں ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ تینوں ملکوں کے تعلقات باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی ہیں، تینوں ملکوں کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی باعث اطمینان ہے، امید ہے پاک بھارت سیز فائر مستقل طور پر ہوگا، پاک بھارت کشیدگی میں وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر کی مدبرانہ قیادت کو سراہتا ہوں۔ رجب طیب اردوان نے مزید کہا کہ ہمارا خطہ سٹریٹجک اعتبار سے بہت اہم ہے، مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا، غزہ میں بچوں کو وحشیانہ انداز میں قتل کیا جا رہا ہے، خطے کے امن کو تباہ کرنے والوں کے خلاف کھڑے ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ پاکستان اور الہام علیوف سرمایہ کاری پاک بھارت کے درمیان ترکیہ اور کہا کہ
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔