Daily Ausaf:
2026-07-24@04:25:24 GMT

مشرقی اتحاد،مغربی اضطراب

اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT

بین الاقوامی تعلقات میں اس وقت پاکستان کاکردارکئی زاویوں سے عالمی توجہ کامرکزبنتاجا رہا ہے، خصوصاًحالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظرمیں پاکستان کی چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی دفاعی شراکت داری، اسٹریٹجک مفادات،دفاعی وابستگی اوربھارتی مہم جوئیوں کے خلاف عملی ردعمل،ایک نیاعالمی منظرنامہ تخلیق کررہاہے۔اس وقت دنیابھرمیں بالعموم اورمغربی میڈیابالخصوص پاکستان کے چینی اسلحہ پرانحصار،حالیہ پاک- بھارت کشیدگی اوراس کے عالمی اثرات کے بارے میں بہت کچھ لکھاجارہاہے۔
پاکستان اورچین کے دفاعی تعلقات محض عسکری لین دین تک محدودنہیں بلکہ یہ ایک اسٹریٹجک اتحادکی شکل اختیارکرچکے ہیں۔ پاکستان نے ماضی میں امریکااورمغرب سے ہتھیار حاصل کئے،لیکن 2000کے بعدسے چین دفاعی شراکت کاسب سے بڑاذریعہ بن چکاہے اورپاکستان کاچینی دفاعی سازوسامان پر انحصار میں کافی اضافہ ہوگیاہے۔ چینی ہتھیار نسبتاًکم لاگت، جدید ٹیکنالوجی اورسیاسی لچک کے ساتھ فراہم کیے جاتے ہیں،جومغربی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کے لئے زیادہ موزوں ہیں۔پاکستان کی مسلح افواج کی جدید کاری میں چین کاکردارروزافزوں ہے۔
حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں8مئی کو پاکستانی فضائیہ نے بھارتی آپریشن سندورکے جواب میں ایک لائیوجنگی مظاہرہ میں6بھارتی طیارے (3ریفال سمیت)مارگرائے۔ان حملوں میں چینی ہتھیاروں کی مؤثریت نے عالمی سطح پرتوجہ حاصل کی۔’’ایوک چنگدوائیر کرافٹ کارپوریشن‘‘ اور’’نورینکو‘‘جیسی کمپنیوں نے عالمی سرمایہ کاروں کوفوری متوجہ بھی کیا ہے۔ چینی دفاعی کمپنیوں کے اسٹاکس میں صرف 48 گھنٹوں میں36%اضافہ ہوا۔یہ ایک طرح کا ’’لائیوڈیفنس ایکسپو‘‘تھا،جس میں چین کے ہتھیاروں نے دنیابھرکے تجزیہ کاروں کو متاثر کیااوردفاعی مارکیٹ میں مغرب کوسنجیدہ مقابلہ ملا۔
یہی وجہ ہے کہ اہم چینی دفاعی مصنوعات میں پاکستانی دفاعی اداروں کااشتراک بھی حیران کن طور پر اب سامنے آرہاہے جس میں کئی مشترکہ منصوبوں میں جے ایف17تھنڈر( اب بلاک 3کی طرف پیش قدمی)، جے 10سی(ہائی اینڈلڑاکا طیارے ) ،پی ایل-15ایئر ٹوایئر میزائل،ڈرونز(مثلاونگ لونگ سیریز)کی کارکردگی نے مغربی ممالک اور امریکا سمیت جدید اسلحہ سازی بنانے والے اداروں کو ورطہ حیرت میں مبتلاکردیاہے۔چینی ہتھیارنسبتاًکم لاگت،جدیدٹیکنالوجی اورسیاسی لچک کے ساتھ فراہم کیے جاتے ہیں،جو مغربی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کے لئے زیادہ موزوں ہیں۔
جے ایف-17تھنڈرپاکستان ائیرفورس کابنیادی لڑاکاطیارہ جسے چین کے ساتھ مل کرتیار کیا گیا۔ یہ طیارہ جدید ریڈار،میزائل سسٹم،اور ایویونکس چین سے حاصل کیاگیاجدید ترین4.

5 جنریشن سے لیس ہے،اور(بلاک1سے بلاک3 تک)مسلسل ارتقاپذیر ہے۔جے10سی طیارہ جورافیل کے ہم پلہ تصور کیا جاتاہے۔اس کی شمولیت نے بھارتی فضائیہ کے توازن کوچیلنج کیا۔جدیدپی ایل15میزائل،بی وی آر(بی یانڈویژول رینج)ائیرٹوائیرمیزائل جو200کلومیٹرفاصلے تک ہدف کونشانہ بناسکتاہے۔پاکستان نے انٹیلی
جنس،نگرانی اورٹارگٹڈ حملوں کے لئے چین سے ونگ لونگ ٹوڈرون حاصل کئے جبکہ دیگرپاکستانی ساخت کے بھی ڈرون استعمال کئے۔ چینی اسلحہ ساز ادارہ ’’نارینکو‘‘جوٹینک،توپ، اورفضائی دفاعی نظام بھی فراہم کرتاہے،کے ساتھ پاکستانی اسلحہ سازاداروں کااشتراک بھی جاری ہے۔جس کے نتیجہ میں پاکستان،چین کے ساتھ دفاعی شراکت داری کوصرف خریداری تک محدودنہیں رکھ رہا بلکہ مقامی پیداواراورمشترکہ تحقیق کے میدان میں بھی تعاون بڑھارہاہے ۔
یہ تنازع صرف بھارت اورپاکستان کے درمیان نہیں بلکہ ایک غیررسمی جنگ بھی تھی۔اس کشیدگی میں پاکستان-چین اتحادبمقابلہ بھارت، اسرائیل، امریکا اتحادمیں پاک چین اور مغربی ٹیکنالوجی کی براہِ راست جنگ کی جھلک دنیاکو نمایاں نظرآئی۔بھارت نے فرانسیسی رافیل طیارے استعمال کئے، جنہیں ’’گیم چینجر‘‘ قراردیا جاتاتھاجبکہ پاکستان کی جانب سے چینی ساختہ جے10سی،جے ایف 17تھنڈر،پی ایل15 میزائل اورمکمل پاکستانی ساختہ الفتح میزائل کی موثر کارکردگی نے مغربی اسلحہ سازوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی۔ پاکستان کی فضائیہ نے رافیل طیارے کوکامیابی سے نشانہ بناکرمغرب کوحیران کردیا۔یہ جنگ صرف عسکری نہیں تھی بلکہ ٹیکنالوجی کاٹیسٹ کیس بھی بن گئی۔
مغرب کی پریشانی اس بات سے دوگناہوگئی کہ اسرائیلی ہاروپ ڈرونزکے باوجود بھارت کوشکست ہوئی۔ عالمی دفاعی تجزیہ نگاروں اورسوشل میڈیاپریہ تاثرپختہ ہوا کہ چینی دفاعی ساز و سامان قابلِ بھروسہ،مثراورکم لاگت متبادل ہے۔یہ ایک عسکری کے ساتھ ساتھ مارکیٹنگ جیت بھی تھی جس نے دنیابھرمیں چینی دفاعی صنعت کے لئے نئے دروازے کھول دئیے۔
تاہم یہاں یہ امریکاکی مداخلت کے ساتھ ساتھ چین،امریکاکے درمیان خاموش تجارتی معاہدہ جیسی اہم پیش رفت کوبھی غورسے دیکھناہوگا۔ابتدامیں امریکانے اس تنازع سے خود کوعلیحدہ رکھامگرجیسے ہی پاکستان کی کامیاب کارروائی اورچین کی دفاعی ٹیکنالوجی منظرعام پرآئی،امریکانے فوری سیزفائرکا مطالبہ کردیا۔ پاکستان کے مثرجواب کے فوری بعد ٹرمپ نے سیزفائر کا اعلان کرکے’’ایٹمی جنگ‘‘ کو ٹالنے کادعویٰ کیامگرپسِ پردہ جنیوامیں چین- امریکا تجارتی مذاکرات مکمل ہوچکے تھے۔صدرٹرمپ نے ایک بیان میں ’’ایٹمی جنگ سے بچاؤ‘‘کو جوازبناکرکشیدگی کے خاتمے کااعلان کیا۔
اس کے فورابعدجنیوامیں چین اورامریکاکے درمیان ایک خفیہ تجارتی میٹنگ ہوئی۔چین اور امریکا نے اپنے ٹیرف میں بڑی کمی کا اعلان کیا۔دونوں ممالک نے تجارتی پابندیاں ختم کیں، جس سے عالمی معیشت میں بہتری آئی۔ عالمی دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے چین کے لئے ایک لائیوڈیفنس مارکیٹنگ کی،جس کے اثرات نے عالمی معیشت کومتاثرکیاہے۔ پاکستان اورچین کے فوجی اشتراک نے یہ ثابت کیاکہ امریکاکوخدشہ تھاکہ اگر پاکستان اورچین مل کرمیدانِ جنگ میں مغرب کو شکست دیتے رہے،توعالمی اسلحہ مارکیٹ اورسیاسی ساکھ متاثرہوگی۔اس لئے اس جنگ کوہرحالت میں روکنا صرف بھارت اور اسرائیل کے لئے ہی نہیں بلکہ امریکا اورمغرب کے تمام اسلحہ ساز اداروں کے لئے انتہائی اہم ہے اورادھر پاکستان اورچین نے بھی یہ فیصلہ کرلیا کہ وہ اپنے مقاصدمیں کامیاب ہوگئے ہیں۔
دراصل چین کی گزشتہ چالیس سالہ حکمت عملی خاموش فوجی طاقت کی تیاری تھی،اورپاکستان اس قوت کاسب سے بڑامظہراور مستفیداتحادی ہے۔یہ اشتراک دنیاکے لئے ایک پیغام بھی ہے کہ جنگیں صرف میدان میں نہیں جیتی جاتیں،وہ تیاری،سٹریٹجی،اوراتحاد سے جیتی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے ہاتھوں رافیل کی تباہی کے بعدبھارت تواب تک خاموش ہے لیکن رافیل کمپنی کے سربراہ کواپنے ان طیاروں کی تباہی کوتسلیم کرتے ہوئے ندامت کے ساتھ اپنی کمپنی کی ساکھ بچانے کے لئے یہ بیان دیناپڑگیاکہ ہم ’’جہازفروخت کرتے ہیں لیکن لڑنے کے لئے حوصلہ نہیں‘‘
(جاری ہے)

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پاکستان اورچین میں پاکستان پاکستان کے پاکستان کی چینی دفاعی کے ساتھ میں چین چین کے کے لئے

پڑھیں:

فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔

وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں  کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں،  ایسے اقدامات جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

وزیراعظم نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن وسلامتی اور استحکام کے لیے مملکت و عالمی برادری کےساتھ تعاون جاری رکھے گا، پاکستان بحیرہ احمر، آبنائےہرمز اور سمندری تجارت کی بلاتعطل روانی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

وزیراعظم نےخادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت