اگر مودی جنگ جیت جاتا تو صرف سندور نہیں بلکہ بندی، نیل پاش اور کنگھی بھی بانٹ دیتا

بھارتی بھوجپوری گلوکارہ اور بے باک سیاسی تبصرہ نگار نیہا سنگھ راٹھور نے ایک بار پھر مودی سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مودی جی! پرائی عورتوں کو سندور دینا پاپ ہے۔

نیہا نے مزید کہا کہ اگر مودی جنگ جیت جاتا تو صرف سندور نہیں بلکہ بندی، نیل پاش اور کنگھی بھی بانٹ دیتا۔

ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اترپردیش اور بہار کے کئی علاقوں میں بی جے پی کی طرف سے خواتین میں سندور کے پیکٹ تقسیم کیے گئے، جنہیں مودی کی جیت کی علامت قرار دیا گیا۔

نیہا نے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندور کی ڈبیا پر تصویر کہیں مودی جی کی ہی نہ ہو؟

نیہا کے تبصرے نے بھارتی میڈیا میں بھونچال پیدا کر دیا اور بی جے پی کے ترجمانوں نے حسبِ روایت گلوکارہ کے خلاف توہینِ وزیرِاعظم اور ملک کی ساکھ خراب کرنے جیسے الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔

یاد رہے کہ نیہا سنگھ راٹھور پہلے ہی ایک اور مقدمے کا بھی سامنا کر رہی ہیں، جس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے پہلگام حملے سے متعلق پوسٹ کر کے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

اس سے قبل بھی انہیں یوپی میں کا با اور بہار میں کا با جیسے نغموں کے ذریعے بی جے پی کی ناکامیوں کو اجاگر کرنے پر ہراساں کیا جا چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان