مودی حکومت سیاسی ناکامیوں کا بوجھ "مانگ کے سندور" پر نہ ڈالیں، راگنی نایک
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
راگنی نایک نے سوال اٹھایا کہ اگر بی جے پی واقعی خواتین کی فکر کرتی ہے تو وہ ان عورتوں کے گھروں میں کیوں نہیں جاتی جنکے شوہر نوٹ بندی، کورونا، کسان تحریک یا معاشی دباؤ میں جان گنوا بیٹھے۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی قومی ترجمان ڈاکٹر راگنی نایک نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی پر "آپریشن سندور" کے حوالے سے سخت الفاظ میں حملہ بولا۔ انہوں نے کہا کہ "سندور" کا رنگ اور انداز مختلف ریاستوں میں مختلف ہو سکتا ہے لیکن ہر "سناتنی ہندو" شادی شدہ عورت کے لئے اس کی اہمیت ایک جیسی ہوتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اور "سنگھ پریوار" کے لوگوں کو سندور کی یہ روحانی اور ثقافتی اہمیت سمجھ ہی نہیں آتی۔
راگنی نایک نے کہا کہ سندور صرف ایک آرائش نہیں بلکہ سہاگ، عزت، محبت، اعتماد اور سات جنموں کے بندھن کی مقدس علامت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہی سندور جو عورت کی مانگ کو سجتا ہے، آج اسے نریندر مودی اپنی سیاست کی سطحی مہمات میں استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت نے "آپریشن سندور" کی باقاعدہ اعلان کیا ہے اور ہر گلی، ہر ضلعے میں فوجی وردی پہنے افراد کی تصاویر کے ساتھ اس کا پرچار کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی کا منصوبہ ہے کہ وہ نریندر مودی کے حلف لینے کے دن سے گھروں میں جا کر سندور تقسیم کرے گی۔
راگنی نایک نے سوال اٹھایا کہ اگر بی جے پی واقعی خواتین کی فکر کرتی ہے تو وہ ان عورتوں کے گھروں میں کیوں نہیں جاتی جن کے شوہر نوٹ بندی، کورونا، کسان تحریک یا معاشی دباؤ میں جان گنوا بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بیویاں آج بھی مانگ میں سندور نہیں بھر سکتیں، کیا بی جے پی ان کے گھر جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ جب کسی سناتنی خاتون کی مانگ میں سندور اس کا شوہر بھرتا ہے یا اسے سسرال یا کسی مندر سے آشیرواد کے طور پر ملتا ہے، تو پھر حکومت کی طرف سے اجنبی مردوں کے ہاتھوں دیا گیا سرکاری سندور کس لئے اور کس کے لئے ہوگا۔
راگنی نایک نے حکومت سے یہ بھی پوچھا کہ کیا بی جے پی ان خواتین سے بھی سندور بانٹے گی جنہوں نے اپنے شوہر کسان تحریک کے دوران کھو دئے۔ یا ان سے جن کے شوہر کورونا کے دوران مناسب طبی سہولت نہ ملنے کے باعث دم توڑ گئے۔ انہوں نے بی جے پی کے کچھ لیڈروں کے خواتین سے متعلق بیانات پر بھی شدید اعتراض ظاہر کیا، خاص طور پر وزیر رام چندر جانگڑا اور وزیر تعلیم وجے شاہ کے بیانات کو قابل اعتراض قرار دیا۔ ان کے مطابق جب تک بی جے پی ایسے لیڈروں کو پارٹی سے باہر نہیں نکالتی، اس کے پاس خواتین کے احترام کی کوئی اخلاقی بنیاد نہیں بچتی۔
انہوں نے فوج کے وقار کو سیاسی مہمات میں گھسیٹے جانے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ مودی حکومت فوج کی قربانیوں پر اپنی ناکامیوں کا پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آپریشن سے قبل پاکستان کو آگاہی دی گئی، جس کی وجہ سے نقصانات ہوئے لیکن کسی نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ راگنی نایک نے کہا کہ اگر بی جے پی واقعی خواتین کے دکھ درد میں شریک ہونا چاہتی ہے تو اسے سیاست کی بجائے انسانیت کو ترجیح دینی ہوگی۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ایک چٹکی سندور کی قیمت آپ نہیں جانتے نریندر بابو۔ یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ اس سیاست کی کھلی مخالفت ہے جو خواتین کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: راگنی نایک نے نے کہا کہ انہوں نے بی جے پی
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔