استعفیٰ تب دینگے جب جیل سے عمران خان آئے گا، پارلیمانی لیڈر پی ٹی آئی منحرف گروپ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
کراچی سے پی ٹی آئی منحرف اراکین کے پارلیمانی لیڈر اسد امان نے کہا کہ میئر کراچی کو آج پی ٹی آئی کے صدر اور جنرل سیکرٹری نے خط لکھا ہے، مجھے افسوس اس بات کا ہے آج کرائے دار مالک مکان بننے چلے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پی ٹی آئی کراچی ڈویژن کے صدر اور جنرل سیکرٹری کی جانب سے میئر کراچی کو منحرف ارکان کی رکنیت ختم کرنے کے خط کا معاملہ، پی ٹی آئی منحرف اراکین کے پارلیمانی لیڈر اسد امان کا بیان سامنے آ گیا۔ پی ٹی آئی منحرف اراکین کے پارلیمانی لیڈر اسد امان نے کہا کہ میئر کراچی کو آج پی ٹی آئی کے صدر اور جنرل سیکرٹری نے خط لکھا ہے، مجھے افسوس اس بات کا ہے آج کرائے دار مالک مکان بننے چلے ہیں۔ پارلیمانی لیڈر پی ٹی آئی منحرف گروپ نے کہا کہ ہم استعفیٰ اس صورت میں دینگے جب جیل سے عمران خان آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی سیاست 32 چیئرمینز پر شروع اور ختم ہوتی ہے، ہم سے استعفیٰ لینے کا اختیار صرف اور صرف عمران خان کے پاس ہے۔
اسد امان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی جیل سے پیغام دینگے 32 اراکین استعفیٰ دیں ہم دینگے، یہ اتنی بوکھلاہٹ کا شکار ہیں نوٹیفکیشن میں ایک چیئرمین کا نام 2 مرتبہ لکھا ہے، ہم اس شہر کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے چیئرمینز نے ہم سے زیادہ کام کیا ہو تو بتائیں جو آپ کی سزا وہ ہماری سزا ہے، عوام کے پیسے جیبوں میں ڈالنے کے بجائے ہم نے کام کیا۔ اسد امان نے کہا کہ سانحہ 9 مئی کے بعد ہم منظر عام پر نہیں آئے تھے جو مخصوص نشست پر خواتین منتخب ہوئیں ہم نے کسی جگہ دستخط نہیں کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی کاغذ پر دستخط کئے بغیر مخصوص نشست پر خواتین کیسے منتخب ہو گئیں، ہم نے میئر الیکشن میں مرتضٰی وہاب کو ووٹ نہیں دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسد امان نے کہا کہ پارلیمانی لیڈر پی ٹی آئی منحرف
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔