ہارورڈ یونیورسٹی نے غیرملکی طلبہ پر پابندی سے متعلق ابتدائی عدالتی جنگ جیت لی
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
---فائل فوٹو
ہارورڈ یونیورسٹی نے غیرملکی طلبہ پر پابندی سے متعلق ابتدائی عدالتی جنگ جیت لی۔
جج نے ہارورڈ یونیورسٹی میں غیر ملکی طالبِ علموں پر پابندی لگانے کی ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش روک دی ہے۔
وفاقی جج کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے جو عارضی حکم امتناع جاری کیا تھا وہ برقرار رہنا چاہیے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہارورڈ یونیورسٹی کو بین الاقوامی طلبہ کو داخلہ دینے سے روک دیا تھا۔
واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہارورڈ.
امریکی اخبار کے مطابق سیکریٹری ہوم لینڈ سیکیورٹی کرسٹی نوم نے یونیورسٹی کو خط میں ٹرمپ انتظامیہ کے اقدام سے آگاہ کیا تھا۔
امریکی اخبار کے مطابق حکومت کی جانب سے یہ اقدام ہوم لینڈ سیکیورٹی کی یونیورسٹی میں جاری تفتیش کے لیے لیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ہارورڈ یونیورسٹی پر پابندی
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔