ہارورڈ یونیورسٹی نے غیرملکی طلبہ پر پابندی سے متعلق ابتدائی عدالتی جنگ جیت لی
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
---فائل فوٹو
ہارورڈ یونیورسٹی نے غیرملکی طلبہ پر پابندی سے متعلق ابتدائی عدالتی جنگ جیت لی۔
جج نے ہارورڈ یونیورسٹی میں غیر ملکی طالبِ علموں پر پابندی لگانے کی ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش روک دی ہے۔
وفاقی جج کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے جو عارضی حکم امتناع جاری کیا تھا وہ برقرار رہنا چاہیے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہارورڈ یونیورسٹی کو بین الاقوامی طلبہ کو داخلہ دینے سے روک دیا تھا۔
واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہارورڈ.
امریکی اخبار کے مطابق سیکریٹری ہوم لینڈ سیکیورٹی کرسٹی نوم نے یونیورسٹی کو خط میں ٹرمپ انتظامیہ کے اقدام سے آگاہ کیا تھا۔
امریکی اخبار کے مطابق حکومت کی جانب سے یہ اقدام ہوم لینڈ سیکیورٹی کی یونیورسٹی میں جاری تفتیش کے لیے لیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ہارورڈ یونیورسٹی پر پابندی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔