امریکا کی جانب سے چینی طلبہ کے ویزوں کی منسوخی پر حکومت چین نے اسے ’جارحانہ انداز‘ سے تعبیر کرتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مصنوعی ذہانت کی دنیا میں چین امریکا کو پیچھے چھوڑنے کے قریب پہنچ گیا

چین کی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ اس نے واشنگٹن کے ساتھ بدھ کو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے اعلان پر باضابطہ اعتراض درج کروایا ہے۔

’غیر معقول‘ فیصلہ

چینی حکومت کی ترجمان، ماؤ نِنگ نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ قومی سلامتی اور نظریات کو بہانہ بنا کر ایک ’غیر معقول‘ فیصلہ کر رہی ہے، جس سے چینی طلبہ کے جائز حقوق اور مفادات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معمول کے ثقافتی تبادلے میں خلل آیا ہے۔

چینی ترجمان کے مطابق امریکا کی یہ سیاسی اور امتیازی پالیسی اس کے اس دعوے کو جھٹلاتی ہے کہ وہ آزادی کا حامی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اور اس سے امریکا کی بین الاقوامی ساکھ، قومی وقار اور اعتماد کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

یاد رہے کہ روبیو کے اعلان میں خاص طور پر چین اور ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے نگرانی میں اضافے کا ذکر کیا گیا تھا، جو امریکی یونیورسٹیوں کے لیے ایک بڑا مالی ذریعہ ہیں۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب ایک روز قبل چین نے امریکی محکمہ خارجہ کے اس فیصلے پر تنقید کی تھی کہ اس نے دنیا بھر کے طلبہ کے لیے ویزا اپوائنٹمنٹس کو وقتی طور پر معطل کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ ٹرمپ انتظامیہ نے ہارورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تمام بین الاقوامی طلبہ کے اجازت نامے ختم کرنے کی کوشش کی تھی، جسے یونیورسٹی نے مسترد کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ روبیو نے دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ ہم چینی طلبہ کے ویزے جارحانہ طور پر منسوخ کریں گے، خاص طور پر ان طلبہ کے جو چینی کمیونسٹ پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں یا اہم شعبہ جات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم مستقبل کے ویزا درخواست گزاروں کے لیے معیارات میں تبدیلی بھی لائیں گے تاکہ جانچ پڑتال سخت کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:چین امریکا تعلقات سنگین ہوگئے، چینی وزیر خارجہ نے خطرہ کی گھنٹی بجادی

چینی نوجوان طلباہ طویل عرصے سے امریکی یونیورسٹیوں کے لیے اہم رہے ہیں، جو مکمل فیس ادا کرنے والے بین الاقوامی طلبہ پر انحصار کرتی ہیں۔

انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کی رپورٹ

انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کی رپورٹ کے مطابق تعلیمی سال 2023-24 میں چین نے 277,398 طلبہ امریکا بھیجے، حالانکہ برسوں بعد پہلی مرتبہ بھارت نے اس تعداد کو پیچھے چھوڑا ہے۔

ٹرمپ نے اپنی سابقہ مدت میں بھی چینی طلبہ کو نشانہ بنایا تھا، خاص طور پر ان کو جو حساس شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے یا فوج سے وابستہ تھے۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ روبیو کا بیان پچھلے اقدامات سے کتنا مختلف یا شدید ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکا یونیورسٹی چین چینی ترجمان چینی طلبہ مارکو روبیو ویزا منسوخ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا امریکا یونیورسٹی چین چینی ترجمان چینی طلبہ مارکو روبیو ویزا منسوخ چینی طلبہ طلبہ کے کے لیے

پڑھیں:

ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔

عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.

Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.

— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل