کراچی:

سندھ بھر کے سرکاری کالجوں میں تعلیمی سال 26-2025 کے لیے داخلوں کا مرحلہ مکمل ہوگیا اور گزشتہ برس کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ داخلے ہوئے۔

نئے تعلیمی سال کے لیے کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 69 ہزار 923 طلبہ نے مختلف کالجوں میں داخلہ حاصل کیا، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے۔

سندھ بھر میں رواں سال گیارہویں جماعت کا سیشن 5 اگست کو شروع کیا جا رہا ہے، اس مرتبہ کمپیوٹر سائنس سب سے مقبول فیکلٹی رہی، پہلی بار داخلے کے لیے طلبہ کو فیکلٹی اور کالج تبدیل کرنے کا موقع بھی دیا گیا، پرنسپلز کو داخلے کی تبدیلی، کلیم اور ٹرانسفر کے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔

اسی طرح داخلوں کی شفافیت یقینی بنانے کے لیے پہلی بار کٹ آف لسٹ میں پرسنٹیج بھی ظاہر کی گئی ہے تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

کراچی میں سب سے زیادہ 99 ہزار 711 طلبہ نے کالجوں میں داخلہ لیا، رواں سال سب سے زیادہ داخلے کمپیوٹر سائنس کے شعبے میں حاصل کیے گئے جہاں 31 ہزار 692 طلبہ نے اس شعبے کا انتخاب کیا، اس کے بعد پری میڈیکل میں 22 ہزار 846، کامرس میں 21 ہزار 233، پری انجینئرنگ میں 11 ہزار 386، ہیومینیٹیز میں 8 ہزار 876 اور ہوم اکنامکس میں 160 داخلے ہوئے۔

کراچی کے بعد  حیدرآباد میں 26 ہزار 543، میرپورخاص میں 10 ہزار 618، شہید بینظیر آباد میں 10 ہزار 183، لاڑکانہ میں 9 ہزار 889 اور سکھر میں 10 ہزار 979 طلبہ نے داخلے لیے۔

حیدرآباد میں سب سے زیادہ رجحان پری میڈیکل کی طرف رہا جہاں  16 ہزار 767  طلبہ نے داخلہ لیا، دیگر مضامین میں بھی خاطر خواہ دلچسپی دیکھی گئی، دیگر شہروں میں بھی پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ فیکلٹیز نمایاں رہیں، مگر کمپیوٹر سائنس کی جانب رجحان میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ ڈاکٹر نوید رب صدیقی نے بتایا کہ رواں سال سب سے زیادہ داخلے کمپیوٹر سائنس میں ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ طلبہ اب روایتی مضامین کے بجائے ٹیکنالوجی سے جڑے شعبوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا دور ہے، اب طلبہ کی ترجیحات بھی بدل گئی ہیں۔

ڈی جی کالجز نے بتایا کہ اس مرتبہ داخلوں کا عمل طلبہ کی مرضی سے مکمل کیا گیا ہے، کسی پر زبردستی فیکلٹی یا کالج مسلط نہیں کیا گیا، اس پالیسی کو طلبہ اور والدین دونوں نے خوش آئند قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں جبری داخلے اور محدود اختیارات کی شکایات عام تھیں، مگر اب اس عمل کو مکمل شفاف اور آسان بنا دیا گیا ہے، پہلے طلبہ کے داخلے ہم ان کے مارکس کے حساب سے کر دیتے تھے مگر اب ان کو بھی آپشن دیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ داخلے کے عمل کو سہل بنانے کے لیے اس سال پہلی بار سہولت مراکز، ہیلپ ڈیسک اور تکنیکی معاونت کے مراکز قائم کیے گئے جن کی تعداد 30 ہے، ان مراکز میں تربیت یافتہ اسٹاف تعینات کیا گیا ہے تاکہ طلبہ کے مسائل فوری حل کیے جا سکیں۔

ڈاکٹر نوید رب صدیقی نے کہا کہ ضلع ملیر کے 6، ضلع وسطی اور شرقی میں 5، ضلع کورنگی میں 6، ضلع جنوبی اور کیماڑی میں 4، 4 کالجز میں یہ مراکز قائم کیے گئے ہیں اور رواں سال پہلی بار کالج کے پرنسپلز کو داخلے کی تبدیلی، کلیم اور منسوخی کے اختیارات دے دیے گئے ہیں۔

اس سے قبل طلبہ کو معمولی امور کے لیے ڈی جی کالجز کے دفتر کے چکر لگانے پڑتے تھے، مگر اب یہ تمام سہولتیں ان کے اپنے کالج میں ہی دستیاب ہوں گی، جس سے نہ صرف وقت بچے گا بلکہ سفری اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔

ڈی جی نوید رب صدیقی نے مزید کہا کہ اس بار ہم نے ہر داخلہ مکمل چھان بین کے بعد منظور کیا ہے،کسی بھی بے ضابطگی سے بچنے کے لیے کٹ آف لسٹ میں پہلی بار مارکس کے ساتھ پرسنٹیج بھی ظاہر کی گئی ہے تاکہ داخلوں کا عمل شفاف ہو۔

انہوں نے کہا کہ لڑکوں کے کالجوں میں آدم جی بوائز کالج سب سے آگے رہا جبکہ طالبات میں بام پی ای سی ایچ ایس کالج نمایاں رہا، طلبہ کے نمبرز کسی کالج کی مطلوبہ میرٹ پر پورے نہیں آ رہے تھے تو طلبہ نے اپنی پسند کا کالج اور فیکلٹی تبدیل کیا ہے۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر انسپیکشن کالجز کامران شیخ کے مطابق کراچی کے 156 سرکاری کالجز میں اس سال تقریباً ایک لاکھ طلبہ کو داخلے دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بارھویں جماعت کا نیا تعلیمی سیشن یکم اگست کو جبکہ گیارہویں جماعت کی کلاسز 5 اگست کو شروع ہوں گی، ماضی میں کلاسز کئی ہفتوں تاخیر سے شروع ہوتی تھیں مگر اس بار تمام تر انتظامات وقت پر مکمل کر لیے گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کمپیوٹر سائنس سب سے زیادہ کالجوں میں داخلوں کا رواں سال پہلی بار گئے ہیں کیے گئے کے لیے

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت