اسکولوں میں طلبہ کے موبائل استعمال کرنے پر پابندی لگائی جائے، پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
پنجاب اسمبلی میں پبلک اور پرائیویٹ اسکولوں میں طلبہ کے موبائل فون استعمال پر مکمل پابندی کی قرارداد جمع کرا دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 20 کروڑ موبائل صارفین کی حد عبور ہونے پر خواتین کو مفت موبائل فون دینے کا اعلان
یہ قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی راحیلہ خادم حسین نے پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروائی۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور ان کی ذہنی و سماجی تربیت کی اولین ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں موبائل فونز اور سوشل میڈیا کے بے دریغ استعمال نے بچوں کے ذہن اور اخلاقی اقدار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
قرارداد میں تجویز دی گئی ہے کہ حکومت اس سماجی مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور اس کے حل کے لیے مؤثر لائحہ عمل ترتیب دے۔
قرارداد کے مطابق پہلے قدم کے طور پر تمام پبلک اور پرائیویٹ اسکولز میں طلبہ کے موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور طالبعلم کا قتل: طلبہ کا احتجاج، وزیر اعلیٰ کا قاتلوں کی گرفتاری، ایس ایچ او کو معطل کرنے کا حکم
مزید برآں قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے حوالے سے بھی قانون سازی کی جائے تاکہ ان کی ذہنی نشوونما اور اخلاقی تربیت محفوظ رہ سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسکولز پابندی کا مطالبہ پنجاب اسمبلی راحیلہ خادم قرارداد پیش مسلم لیگ ن موبائل فون کا استعمال وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکولز پابندی کا مطالبہ پنجاب اسمبلی راحیلہ خادم قرارداد پیش مسلم لیگ ن موبائل فون کا استعمال وی نیوز پنجاب اسمبلی موبائل فون
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔