ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی پراسرار موت، پولیس اور میڈیکو لیگل ٹیم کا رہائشی فلیٹ کا ایک اور دورہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے ڈیفنس فیز 6 کی رہائشی عمارت سے ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی 9 ماہ پرانی لاش ملنے کے معاملے کی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔
پولیس اور میڈیکولیگل ٹیم پیر کو ایک بار پھر متوفیہ کے فلیٹ پر پہنچ گئی، جہاں بیڈ روم سمیت گھر کے دیگر حصوں کی تلاشی لی گئی۔
تفتیشی حکام کے مطابق حمیرا اصغر کے کمروں اور کچن میں مختلف کپ اور پیالوں میں نمک رکھا ہوا پایا گیا۔ نمک کمروں کے کونوں سمیت بیڈ اور کچن کیبنیٹس کے نیچے رکھا ہوا ملا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ نمک ممکنہ طور پر کیڑے مکوڑوں سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ میڈیکل ٹیم نے پیالوں اور کپ سے نمونے حاصل کرلیے ہیں تاکہ مزید تجزیہ کیا جا سکے۔
ادھر سی ٹی ڈی نے بھی ڈسٹرکٹ ساؤتھ پولیس کی جانب ڈیٹا ریکوری کیلئے بھیجے گئے موبائل فونز کی ٹیکنیکل جانچ شروع کردی۔
سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ حمیرا اصغر کے موبائل فونز اور ایک ٹیبلٹ کی ٹیکنیکل جانچ کا عمل بھی جاری ہے۔ تفتیش کے مطابق اداکارہ کے موبائل فونز 28 اکتوبر کے بعد سے اتحاد کمرشل میں واقع رہائشی فلیٹ کی ایک ہی لوکیشن پر فعال رہے۔
ذرائع کے مطابق حمیرا نے اکتوبر میں ہی نیا موبائل فون خریدا اور پرانے فونز سے ڈیٹا نئے موبائل فون میں منتقل کرنے کے بعد اسے پرانے موبائل فون سے ڈیلیٹ کر دیا تھا۔
ذرائع انسدادِ دہشتگردی سیل کے مطابق تین موبائل فونز اور ایک ٹیبلٹ سے ڈیلیٹ شدہ ڈیٹا کی ریکوری کا عمل جاری ہے، جس کے بعد مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔ اداکارہ کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے پولیس تمام پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔
ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی 9 ماہ پرانی لاش ڈیفنس فیز 6 میں واقعے اتحاد کمرشل کی رہائشی عمارت پر چوتھی منزل کے فلیٹ سے 8 جولائی کو ملی تھی۔ واقعے کی تفتیش خصوصی ٹیم کررہی ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: موبائل فونز
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔