مراد سعید کو سینیٹ پہنچانا ہماری بڑی جیت ہے: وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
وزیراعلی خیبر پخونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ مراد سعید کی واپسی ہوگئی، ہم نے انہیں سینیٹر بنادیا یہ ہماری جیت ہے۔ منگل کو پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی خیبر پخونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اگلوں کی ضد تھی کہ مراد سعید مائنس ہے، ہم نے انہیں سینیٹر بنا کر سینیٹ پہنچا دیا۔ انہوں نے کہا کہ مراد سعید کو سینیٹ میں پہنچانا ہماری بڑی جیت ہے۔ سینیٹ الیکشن میں خرید و فروخت نہیں ہوئی۔صحافی نے سوال اٹھایا کہ آپ نے سینیٹ میں 3 ووٹ ڈالے ۔ علی آمین گنڈاپور نے جواب دیا کہ ہمارا مقصد پورا ہوا کہ ہم نے خیبر پختونخوا میں خرید و فروخت والا کام نہیں ہونے دیا۔ احتجاج سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ احتجاج کے لیے اب تک پارٹی کا فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ احتجاج کہاں،کس طریقے سے اور کیسے ہوگا یہ طے کرنا باقی ہے۔بعد ازں 9 مئی کیس میں پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزاؤں پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پختونخوا نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزائیں آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان میں انصاف کا جنازہ نکالا جا چکا ہے۔دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے 24 جولائی کو امن و امان پرآل پارٹیز کانفرنس طلب کرلی ، وزیر اعلی نے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو دعوت نامے ارسال کردیے ۔یاد رہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف نے 6 اور اپوزیشن جماعتوں نے 5 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔7 جنرل نشستوں میں سے 4 نشستوں پر پی ٹی آئی کامیاب قرار پائی، پی ٹی آئی کے مرادسعید، فیصل جاوید، مرزا آفریدی اور نورالحق قادری جنرل نشستوں پرجیتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
اسلام آباد:سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔
سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔
کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔
کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔
سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔
اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔