’جو ترمیم پی ٹی آئی اسحاق ڈار کیلئے لائی تھی اب اس کا نشانہ مراد سعید بنیں گے : رانا ثناءاللہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہاہے کہ جو ترمیم اسحاق ڈار کیلئے لائی گئی تھی اب اس کا نشانہ مراد سعید بنیں گے ، اگر مراد سعید کیسز میں مفرور ہیں اور ان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہیں ، اگر وہ ضمانت لے کر حلف لینے آتے ہیں تو انہیں حلف لینا چاہیے ۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں مراد سعید کے سینیٹر منتخب اور حلف لینے کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈار کا معاملہ آپ کے سامنے ہے ، پی ٹی آئی کی حکومت نے ایک ترمیم کروائی تھی کہ اتنی دیر تک کوئی حلف نہ لے تو اسے نااہل کیا جائے ، اسحاق ڈار کے حلف میں کافی دیر ہوئی تھی ، اس وقت ایسا تھا کہ اس میں کوئی واضح نہیں تھا کہ کب تک کوئی حلف نہ لے تو ڈی سیٹ ہو جائے گا، اب اس میں مدت کا تعین ہے کہ اگر اتنی دیر تک کوئی حلف نہیں لے گا تو نااہل ہو جائے گا۔اگر مراد سعید حلف لینے کیلئے آتے ہیں، وہ کیسز میں مفرور ہیں ، ان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہیں، تو چیئرمین سینیٹ انہیں کس طرح حلف دے گا ، اس پوزیشن میں اگر ضمانت لیتے ہیں تو انہیں حلف لینا چاہیے ۔
سعودی شہزادہ عبدالرحمان بن عبداللہ کی والدہ انتقال کر گئیں
سینیٹ میں تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پہلے قانون اس طرح تھا کہ آپ کو اجازت تھی کہ جب مرضی حلف لے لیں لیکن اس کے بعد قانون میں ترمیم آئی اور ایک وقت کا تعین کیا گیا، اس میں بھی ابھی ایک خلا ہے ، اگر آپ مجبور احلف نہ لیں تو ایک پوزیشن ہے اور اگر آپ جان بوجھ کر حلف نہ لیں تو دوسری پوزیشن ہے ۔ یہ ترمیم قانون میں 2018 میں آئی تھی ، اس کی وجہ یہ تھی کہ اسحاق ڈار کی ایک مثال تھی وہ حلف لینے نہیں آ رہے تھے ، اس ترمیم کے باوجود انہوں نے الیکشن کمیشن میں موقف اختیار کیا تھا کہ میں جان بوجھ کر حلف نہیں لے رہا، میری مجبوری ہے ، اس لیے یہ قانون مجھ پر لاگو نہیں ہوتا۔بیرسٹر علی ظفر کا کہناتھا کہ میرے خیال میں کچھ مہینوں میں مراد سعید کو حلف لینا ہوگا۔
ٹرمپ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرچکے، جمعہ کو پاکستانی رہنما سے ملاقات ہوگی: ٹیمی بروس
رانا ثناء اللہ کا کہناتھا کہ یہ ترمیم صرف اسحاق ڈار کو ڈی سیٹ کرنے کیلئے لائی گئی تھی ، 2018 میں اسحاق ڈار منتخب ہوئے تھے تو جب حلف نہ ہو سکا تو کافی وقت گزر گیا تو اس کے بعد یہ ترمیم لائے ، ابھی معاملہ بیچ میں ہی تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک آ گئی ، تو پھر انہوں نے آ کر اپنا حلف لیا تھا ، جو ترمیم اسحاق ڈار کیلئے لائی گئی اب اس کا نشانہ مراد سعید بنیں گے ۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار کی کیلئے لائی حلف لینے حلف نہ ئی تھی تھا کہ
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔