WE News:
2026-07-24@04:46:42 GMT

اخلاقیات پر مصنوعی ذہانت کے ساتھ ایک مکالمہ

اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT

کچھ عرصہ قبل یہ مکالمہ چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ ہوا جس کا بنیادی محور یہ تھا کہ اخلاقیات کا ماخذ کیا ہے اور مصنوعی ذہانت اور اخلاقیات کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ یہ مکالمہ بالخصوص ان لوگوں کےلیے دلچسپی کا باعث ہوگا جن کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت اب ججوں، قاضیوں، بلکہ مفتیوں تک کی جگہ لے لے گی۔ کیا واقعی ایسا ہوگا؟  کیا ایسا ہونا بھی چاہیے؟

پہلا سوال:

’اخلاقیات‘ (Morality) اور ’آداب‘ (Ethics) میں کیا فرق ہے؟ کیا کوئی عمل اخلاقی طور پر درست، لیکن آداب کے نقطۂ نظر سے غلط ہو سکتا ہے، یا اس کے برعکس؟

جواب:

اخلاقیات اور آداب اکثر مترادف سمجھے جاتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ 2 مختلف تصورات ہیں۔

’اخلاقیات‘ ایک ایسا نظام ہے جو صحیح اور غلط رویے سے متعلق عقائد پر مشتمل ہوتا ہے، جو عموماً ثقافتی، مذہبی یا ذاتی اصولوں پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ کسی مخصوص معاشرے میں رائج معیارات کی نمائندگی کرتا ہے جو درست و نادرست رویے کے تعین میں مدد دیتے ہیں۔

دوسری طرف ’آداب‘ فلسفے کی ایک شاخ ہے جو اخلاقیات سے متعلق سوالات کا تجزیہ کرتی ہے اور استدلال و منطق کی بنیاد پر رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ آداب کا مقصد عموماً ایسے آفاقی اصول وضع کرنا ہوتا ہے جو مختلف حالات میں یکساں طور پر لاگو ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلامی جمہوریہ میں طلاق کا غیر اسلامی قانون

جی ہاں، ایک عمل آداب کے لحاظ سے درست اور اخلاقی لحاظ سے غلط ہو سکتا ہے، یا  اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے: اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم کس اصول کی روشنی میں اس کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ مثلاً کسی کو نقصان سے بچانے کے لیے جھوٹ بولنا بعض اوقات آداب لحاظ سے درست سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ یہ ’مجموعی فائدے‘ کو فروغ دیتا ہے، مگر اخلاقی لحاظ سے یہ غلط سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ یہ دیانت داری کے اصول کے خلاف ہے۔

دوسرا سوال:

ایک ٹرین آ رہی ہے۔ ایک شخص X کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ ریل کا رخ بدل دے جس سے 2 افراد ہلاک ہوں گے؛  یا وہ کچھ نہ کرے اور نتیجتاً 3 افراد ہلاک ہو جائیں گے۔ کیا ریل کا رخ بدلنا اخلاقی لحاظ سے یا آداب کے لحاظ سے درست/غلط ہے؟

جواب :

یہ ایک روایتی اخلاقی مسئلہ ہے جسے ’ٹرالی پرابلم‘ (Trolley Problem) کہا جاتا ہے۔ یہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا کچھ لوگوں کو بچانے کے لیے کچھ دوسرے لوگوں کو نقصان پہنچانا اخلاقی طور پر درست ہے؟

اس منظرنامے میں دونوں صورتوں (رخ بدلنے یا کچھ نہ کرنے) کے نتائج میں دوسروں کو نقصان پہنچتا ہے؛ اس لیے کوئی آسان جواب موجود نہیں۔ کچھ لوگ یہ موقف اختیار کر سکتے ہیں کہ کم لوگوں کی موت کے لیے ریل کا رخ بدل دینا اخلاق اور آداب دونوں پہلوؤں سےدرست ہے۔ اس کے برعکس بعض دیگر افراد یہ مؤقف اختیار کر سکتے ہیں کہ کسی بھی حالت میں جان بوجھ کر کسی کو نقصان پہنچانا غلط ہے۔

آخری تجزیے میں، یہ ایک پیچیدہ اخلاقی مسئلہ ہے جس کا کوئی قطعی جواب نہیں اور مختلف لوگ اپنے اصولوں کے مطابق مختلف رائے دے سکتے ہیں۔

تیسرا سوال:

رحم کے جذبے سے کسی کا قتل (euthanasia) اخلاق اور آداب کے پہلوؤں سے کیا حیثیت رکھتا ہے؟ کیا ایجابی (positive) اور سلبی (negative) قتل کےلیے جواب مختلف ہوگا؟

جواب:

ایجابی اور سلبی قتل بہ جذبۂ رحم 2 مختلف تصورات ہیں جن کا تعلق زندگی کے اختتام سے متعلق فیصلوں سے ہے۔

ایجابی قتل بہ جذبۂ رحم (positive euthanasia) کا مطلب ہے کہ کسی کی تکلیف کو کم کرنے کے لیے اس کی زندگی کو جان بوجھ کر ختم کر دیا جائے۔ اکثر اسے اخلاق آداب دونوں پہلوؤں سے متنازعہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ جان بوجھ کر زندگی کے خاتمے کا عمل ہے، جسے عام طور پر غلط تصور کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے: ایران کے خلاف اسرائیلی و امریکی جارحیت: اہم قانونی سوالات

سلبی قتل بہ جذبۂ رحم (negative euthanasia) اس وقت ہوتا ہے جب کسی مریض کے علاج کو روکا یا ختم کر دیا جائے تاکہ وہ فطری طور پر وفات پا جائے۔ اسے عموماً قابل قبول سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ کسی کی خودمختاری اور وقار کو تسلیم کرنے کا ذریعہ مانا جاتا ہے۔

تاہم، اخلاق اور آداب دونوں کے پہلوؤں سے ان دونوں اقسام کی حیثیت کے بارے میں شدید اختلاف موجود ہے اور مختلف افراد اپنی اقدار کی بنیاد پر مختلف رائے رکھتے ہیں۔

چوتھا سوال:

اصل میں سوال یہ ہے کہ کیا کسی عمل کے کرنے ، یعنی ’فعل‘ (commission) اور نہ کرنے، یعنی ’ترکِ فعل‘ (omission) میں اخلاق یا آداب کی بنیاد پر فرق کیا جا سکتا ہے؟ یا ہم صرف ان کے نتائج کی بنیاد پر فیصلہ کر سکتے ہیں؟

جواب:

فعل اور ترکِ فعل میں فرق ایک پیچیدہ معاملہ ہے اور اس پر اخلاق اور آداب کے پہلوؤں سے بحث جاری ہے۔

بعض صورتوں میں دونوں کا نتیجہ ایک جیسا ہو سکتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی بھوکے شخص کو کھانا نہ دیا جائے اور وہ مر جائے، تو یہ ترکِ فعل بعض اوقات ویسا ہی تصور ہو سکتا ہے جیسا کہ کسی کو جان بوجھ کر مار دینے کا فعل۔

دوسری صورتوں میں دونوں میں واضح فرق ہو سکتا ہے۔ مثلاً کسی کی جان لینے کےلیے عملی اقدام اور کسی کو بچانے کوشش نہ کرنا بظاہر ایک ہی نتیجہ پیدا کرتے ہیں، مگر اخلاق اور آداب کے  لحاظ سے مختلف سمجھے جاتے ہیں۔

یہ فرق ذاتی پسند و ناپسند، ثقافتی اثرات، مذہبی عقائد اور فلسفیانہ اقدار پر بھی منحصر ہوتا ہے۔

پانچواں سوال:

کیا کسی عمل کا اخلاق/آداب  کے لحاظ سے اچھا یا برا ہونا صرف اس کے نتائج کی بنیاد پر طے ہوتاہے؟

جواب:

اخلاقی و اقداری فیصلے صرف نتائج کی بنیاد پر نہیں کیے جاتے۔ اگرچہ نتائج اہم ہیں، لیکن ’نیت‘ بھی فیصلہ کن عنصر ہو سکتی ہے۔

مثلاً اگر کوئی شخص نیکی کی نیت سے کوئی عمل کرے، لیکن اس کے نتائج نقصان دہ ہوں، تو بھی یہ عمل بعض نظریات کے مطابق اخلاقی طور پر درست ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر کوئی شخص نقصان پہنچانے کی نیت سے کوئی عمل کرے، چاہے اس کے نتائج فائدہ مند ہوں، تو وہ عمل اخلاقی طور پر غلط شمار کیا جا سکتا ہے۔

خودمختاری، وقار، اجتماعی بھلائی، انصاف اور برابری جیسے عناصر بھی فیصلہ سازی میں شامل ہوتے ہیں۔ مختلف فلسفے ان پہلوؤں کو مختلف انداز میں کم یا زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

چھٹا سوال:

جب ہم اخلاق/آداب کی بنیاد پر کسی فعل یا ترکِ فعل کے نتائج پر بات کرتے ہیں، تو کیا ان نتائج کا تعلق دوسروں سے ہوتا ہے یا فیصلے کرنے والے شخص سے؟ اور کیا نتائج صرف مادی ہوتے ہیں یا روحانی پہلو بھی اس میں شامل ہوتے ہیں؟

جواب:

اخلاق/ آداب کے تناظر میں عام طور پر نتائج سے مراد دوسروں پر اثرات ہوتے ہیں، کیونکہ مقصد دوسروں کو نقصان سے بچانا اور ان کی فلاح کو فروغ دینا ہوتا ہے۔

تاہم، بعض نظامِ اخلاقیات میں خود فیصلے کرنے والے فرد کی روحانی یا نفسیاتی کیفیت کو بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص کسی کام کے بعد روحانی تسکین، ضمیر کا اطمینان یا پچھتاوا محسوس کرتا ہے تو یہ بھی قابلِ غور پہلو ہو سکتا ہے۔

لہٰذا، مادی اور روحانی دونوں قسم کے نتائج بعض اقداری نظاموں میں اہمیت رکھتے ہیں، اور یہ کہ کون سے نتائج زیادہ اہم ہیں، یہ اس نظامِ اقدار پر منحصر ہے جس کے تحت تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

ساتواں سوال:

جب مصنوعی ذہانت روحانی تسکین یا پشیمانی محسوس نہیں کر سکتی، نہ ہی اسے احساسِ جرم ہوسکتا ہے، تو وہ اخلاق/آداب کی بنیاد پر  فیصلہ کیسے کرسکتی ہے؟ کیا وہ گناہ یا جرم پر ندامت، یا اچھے کام پر اطمینان اور سکون محسوس کر سکتی ہے؟

جواب:

مصنوعی ذہانت ایسی کسی جذباتی یا روحانی کیفیت کو محسوس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی کیونکہ اس کے پاس انسانی شعور یا داخلی احساسات نہیں ہوتے۔

مصنوعی ذہانت فیصلے اعداد و شمار، اصولوں اور الگورتھم کی بنیاد پر کرتی ہے، نہ کہ ذاتی احساسات یا تجربات کی بنیاد پر۔ اخلاق/آداب کی بنیاد پر  فیصلے کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت ان عوامل کا تجزیہ کرتی ہے جو اس کے نظام میں پروگرام کیے گئے ہوں، جیسے نتائج، سیاق و سباق اور قابلِ اطلاق اصول۔

مزید پڑھیں: ہمارے ججوں اور وکلا کے فہم شریعت کے مآخذ

تاہم چونکہ مصنوعی ذہانت کو جو کچھ سکھایا جائے گا وہی وہ کرے گی، اس لیے اس کی اخلاقی فیصلہ سازی کی قابلیت اسی حد تک ہوگی۔ اس میں انسانی اخلاقیات کے باریک پہلوؤں کو مکمل طور پر سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی صلاحیت محدود ہو سکتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد شفاء تعمیرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر اور سربراہ شعبۂ شریعہ و قانون ہیں۔ اس سے پہلے آپ چیف جسٹس آف پاکستان کے سیکرٹری اور شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ آپ سول جج/جوڈیشل مجسٹریٹ کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں۔ آپ اصولِ قانون، اصولِ فقہ، فوجداری قانون، عائلی قانون اور بین الاقوامی قانونِ جنگ کے علاوہ قرآنیات اور تقابلِ ادیان پر کئی کتابیں اور تحقیقی مقالات تصنیف کرچکے ہیں۔

اخلاقیات آداب ایتھکس چیٹ جی پی ٹی چیٹ جی پی ٹی سے مکالمہ مورالیٹی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اخلاقیات چیٹ جی پی ٹی آداب کی بنیاد پر اخلاق اور آداب اخلاقی طور پر مصنوعی ذہانت ہے کیونکہ یہ اس کے برعکس اخلاق آداب جا سکتا ہے ہو سکتا ہے پہلوؤں سے اگر کوئی کو نقصان کے نتائج سمجھا جا ہوتے ہیں سکتے ہیں جاتا ہے آداب کے ہوتا ہے سکتی ہے کرتی ہے ہے اور کیا جا کسی کو کے لیے

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ