جامعہ نگر اوکھلا میں حکومت کا بلڈوزر نہیں چلے گا، دہلی ہائی کورٹ
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
اترپردیش سنچائی محکمہ نے علاقے میں کئی دوکانوں اور مکانوں پر غیر قانونی تعمیرات سے متعلق نوٹس لگایا گیا تھا اور 5 جون تک خالی کرنے کو کہا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ جامعہ نگر اوکھلا کے 115 باشندوں نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرکے اترپردیش سنچائی محکمہ کی انہدامی کارروائی کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس معاملے میں جامعہ نگر کے لوگوں کو بڑی راحت ملی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اگلی سماعت تک کارروائی نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ جامعہ نگر کے 115 باشندوں نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرکے سینچائی محکمہ کو مرادی روڈ، خضر بابا کالونی، جامعہ نگر، اوکھلا میں خسرہ نمبر 277 میں واقع ان کی متعلقہ جائیداد کو منہدم کرنے سے روکنے کا حکم دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اترپردیش سنچائی محکمہ نے علاقے میں کئی دوکانوں اور مکانوں پر غیر قانونی تعمیرات سے متعلق نوٹس لگایا گیا تھا اور 5 جون تک خالی کرنے کو کہا تھا۔
دہلی کے اوکھلا واقع جامعہ نگر علاقے میں کئی گھروں کو منہدم کرنے کے نوٹس جاری کئے ہیں۔ افسران کے ذریعہ چسپاں کئے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ مکانات اور دوکانیں اترپردیش سنچائی محکمہ کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی ہیں۔ اس زمین پر بنے مکان اور دوکان غیر قانونی ہیں اور انہیں 15 دنوں کے اندر ہٹا دیا جانا چاہیئے۔ افسران کی طرف سے 22 مئی کو متعلقہ جائیدادوں پر اس طرح کے نوٹس کو چسپاں کیا گیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سبھی کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اوکھلا، خضربابا کالونی قبضہ کر کے بنائی گئی ہے۔ حالانکہ دہلی ہائی کورٹ نے ان لوگوں کو فی الحال بڑی راحت دی ہے۔ ہائی کورٹ نے سنچائی محکمہ کو اگلی سماعت تک کارروائی کرنے پر روک لگا دی ہے۔ معاملے کی آئندہ سماعت اگست میں ہوگی۔
دہلی کے جامعہ نگر میں غیر قانونی تعمیرات کا حوالہ دے کر خسرہ نمبر 279 کو بھی منہدم کئے جانے کا نوٹس چسپاں کیا گیا ہے۔ انہدام کارروائی کی نوٹس کے خلاف سپریم کورٹ میں بھی عرضی داخل کی گئی ہے۔ پہلے تو عدالت نے ہائی کورٹ جانے کا حکم دیا تھا۔ حالانکہ بعد میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے عرضی پر آئندہ ہفتے سماعت کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس آگسٹن جارج مسیح کی بینچ نے جمعرات کو انہدامی نوٹس کے خلاف داخل عرضی پر آئندہ ہفتے سماعت کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اترپردیش سنچائی محکمہ دہلی ہائی کورٹ
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک