اسرائیل کیجانب سے انسانیت سوز اقدامات کے بے رحمانہ ارتکاب پر اقوام متحدہ کی عہدیدار سیخ پا
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں فرانچسکا آلبانیز کا کہنا تھا کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کا مقصد اپنے جرائم کی پردہ پوشی، لوگوں کو بے گھر کرنا، وحشیانہ بمباری، فلسطینیوں کو زندہ جلانا اور زندہ بچ جانے والے افراد کو معذور کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ فلسطین میں UN ہیومن رائٹس کی نمائندہ "فرانچسکا آلبانیز" نے کہا کہ صیہونی رژیم جان بوجھ کر غزہ میں انسانیت سوز وحشیانہ جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل, انسانی ہمدردی کے حل کو فروغ دینے کا ڈرامہ کر رہا ہے تا کہ غزہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکے۔ صیہونی رژیم غذائی بحران کا شکار غزہ کی آبادی کو منظم انداز میں انسانی امداد سے محروم کر رہا ہے۔ فرانچسکا آلبانیز نے کہا کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کا مقصد اپنے جرائم کی پردہ پوشی، لوگوں کو بے گھر کرنا، وحشیانہ بمباری، فلسطینیوں کو زندہ جلانا اور زندہ بچ جانے والے افراد کو معذور کرنا ہے۔ یہ تمام اقدامات امداد کرنے کے بہانے کئے جا رہے ہیں تا کہ عالمی برادری کی توجہ بین الاقوامی احتساب سے ہٹائی جا سکے۔ واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023ء سے غزہ کی پٹی کے خلاف صیہونی جارحیت میں اب تک 54 ہزار سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ صیہونی رژیم نے یہ جارحیت امریکی حمایت سے شروع کی، جس کا مقصد حماس کی نابودی اور اپنے قیدیوں کی واپسی تھا۔ تاہم اتنی شدید بمباری، لاکھوں لوگوں کو بے گھر کرنے اور ہزاروں افراد کو زخمی و شہید کرنے کے باوجود اسرائیل اپنے کسی بھی ہدف میں کامیاب نہ ہو سکا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔