بھارتی نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر جاوید اختر نے حالیہ انٹرویو میں اداکارہ بشریٰ انصاری کے تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کا فیصلہ خود کریں گے کہ کب بولنا ہے، کسی اور کو یہ حق نہیں۔

بھارتی شو میں دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں جاوید اختر نے کہا کہ اگرچہ بھارت میں مسلمانوں کو بعض اوقات امتیازی سلوک کا سامنا ہوتا ہے، لیکن اس پر بیرونی تنقید انہیں ناگوار گزرتی ہے۔

انہوں نے ممبئی میں مسلمان ہونے کی وجہ سے شبانہ اعظمی کو مکان نہ ملنے کا واقعہ بھی دہرایا، جس میں مالک مکان نے شبانہ کو مسلمان ہونے کی بنیاد پر فلیٹ دینے سے انکار کر دیا تھا۔

جاوید اختر نے اہلیہ کو مکان نہ ملنے کا الزام بھی پاکستان کے سر ڈالتے ہوئے کہا کہ  مالک مکان ایک سندھی تھا جس کو تقسیم کے بعد پاکستان کی جانب سے سندھ سے بےدخل کیا گیا تھا، اور یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کیلئے اس کی تلخیوں کی جڑیں پاکستان میں تھیں۔

        View this post on Instagram                      

A post shared by BIO Saga (@biosaga.

in)

انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ اگر مسلمانوں کو مکان نہ دیں تو اس کے پس پردہ تاریخی دکھ اور زخم ہیں جنہیں سمجھنا چاہیے۔ جاوید اختر نے پاکستان کی سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری کے بیان کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کا فیصلہ خود کریں گے کہ کب بولنا ہے، کسی اور کو یہ حق نہیں۔

یاد رہے کہ بشریٰ انصاری نے جاوید اختر کو اشتعال نہ پھیلانے اور خاموشی اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ نصیر الدین شاہ اور دیگر لوگ بھی ہیں جو خاموش ہیں اگر آپ کچھ اچھا نہیں کہہ سکتے تو خدا سے ڈریں اور خاموش رہے۔

سینئر اداکارہ نے بھارتی فلم رائٹر جاوید اختر کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ یہاں آتے ہیں تو لڈیاں ڈالتے ہوئے جاتے ہیں اور پھر وہاں جاکر زہر اُگلتے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جاوید اختر نے ہوئے کہا کہ

پڑھیں:

اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار

اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان پر چار تارکین وطن کے قتل کا الزام ہے جن کی لاشیں ایک جلی ہوئی منی وین سے ملی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان چار میں سے ایک پاکستانی جبکہ تین کا تعلق افغانستان سے تھا۔اطلاعات کے مطابق پولیس کو جنوبی کالابریا کے زرعی علاقے میں ایک گاؤں کے نزدیک پیٹرول پمپ سے جلی ہوئی گاڑی ملی۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آتا ہے کہ دو افراد نے باہر سے وین کے دروازے بند کیے اور اندر کوئی مائع شے ڈال کر آگ لگا دی۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اس علاقے میں پاکستانیوں کو لے جانے والی گاڑیوں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔یہ واقعات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مقامی کھیتوں میں کام کی تقسیم اور رہائش کے حوالے سے تارکین وطن میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔منگل کے روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے تقریباً ایک بجے فائر فائٹرز کو جلتی ہوئی وین کی اطلاع ملی تھی۔آگ بجھانے کے بعد انھوں نے اندر دیکھا تو ایک خوفناک منظر تھا۔ وین میں چار جلی ہوئی لاشیں موجود تھیں۔رپورٹس کے مطابق بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج سے حاصل شواہد کی بنیاد پر دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • گورنر سٹیٹ بنک کے بھائی آصف جاوید انتقال کر گئے
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو