جاوید اختر نے مسلمان ہونے کی بنا پر کرایے کا گھر نہ ملنے کا الزام بھی پاکستان پر ڈال دیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
بھارتی نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر جاوید اختر نے حالیہ انٹرویو میں اداکارہ بشریٰ انصاری کے تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کا فیصلہ خود کریں گے کہ کب بولنا ہے، کسی اور کو یہ حق نہیں۔
بھارتی شو میں دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں جاوید اختر نے کہا کہ اگرچہ بھارت میں مسلمانوں کو بعض اوقات امتیازی سلوک کا سامنا ہوتا ہے، لیکن اس پر بیرونی تنقید انہیں ناگوار گزرتی ہے۔
انہوں نے ممبئی میں مسلمان ہونے کی وجہ سے شبانہ اعظمی کو مکان نہ ملنے کا واقعہ بھی دہرایا، جس میں مالک مکان نے شبانہ کو مسلمان ہونے کی بنیاد پر فلیٹ دینے سے انکار کر دیا تھا۔
جاوید اختر نے اہلیہ کو مکان نہ ملنے کا الزام بھی پاکستان کے سر ڈالتے ہوئے کہا کہ مالک مکان ایک سندھی تھا جس کو تقسیم کے بعد پاکستان کی جانب سے سندھ سے بےدخل کیا گیا تھا، اور یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کیلئے اس کی تلخیوں کی جڑیں پاکستان میں تھیں۔
View this post on InstagramA post shared by BIO Saga (@biosaga.
انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ اگر مسلمانوں کو مکان نہ دیں تو اس کے پس پردہ تاریخی دکھ اور زخم ہیں جنہیں سمجھنا چاہیے۔ جاوید اختر نے پاکستان کی سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری کے بیان کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کا فیصلہ خود کریں گے کہ کب بولنا ہے، کسی اور کو یہ حق نہیں۔
یاد رہے کہ بشریٰ انصاری نے جاوید اختر کو اشتعال نہ پھیلانے اور خاموشی اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ نصیر الدین شاہ اور دیگر لوگ بھی ہیں جو خاموش ہیں اگر آپ کچھ اچھا نہیں کہہ سکتے تو خدا سے ڈریں اور خاموش رہے۔
سینئر اداکارہ نے بھارتی فلم رائٹر جاوید اختر کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ یہاں آتے ہیں تو لڈیاں ڈالتے ہوئے جاتے ہیں اور پھر وہاں جاکر زہر اُگلتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جاوید اختر نے ہوئے کہا کہ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔