علیزے شاہ کا تہلکہ خیز انکشاف: "میرا گرنا ایک حادثہ نہیں تھا، مجھے جان بوجھ کر دھکا دیا گیا"
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ علیزے شاہ نے ایک ویڈیو بیان کے ذریعے شوبز انڈسٹری کے کچھ چہروں کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے ماضی میں برائیڈل فیشن شو کے دوران پیش آنے والے واقعے کی اصل حقیقت بیان کر دی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں علیزے شاہ نے کہا کہ ان کا ریمپ پر گرنا محض ایک اتفاق نہیں تھا بلکہ گلوکارہ شازیہ منظور نے بار بار اُنہیں دانستہ طور پر دھکا دیا، جس کے باعث وہ توازن کھو بیٹھیں۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ شازیہ منظور اس سے پہلے بھی سوشل میڈیا اسٹار جنت مرزا کے ساتھ اسی نوعیت کا سلوک کر چکی ہیں۔ علیزے نے شوبز میں موجود غیر پیشہ ورانہ رویوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میزبان جگن کاظم نے واقعے کو سنجیدہ لینے کے بجائے ان کے گرنے کا مذاق اُڑایا، جو کسی اداکارہ کے لیے انتہائی شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر عوامی تقریب میں۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ مزید خاموش نہیں رہیں گی اور انڈسٹری میں ہونے والے ہر ناپسندیدہ اور توہین آمیز سلوک کے خلاف آواز بلند کریں گی۔ علیزے شاہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے اور صارفین کی بڑی تعداد نہ صرف ان کے انکشافات پر حیرت کا اظہار کر رہی ہے بلکہ ان کی ہمت کو بھی سراہتے ہوئے بھرپور حمایت کا اظہار کر رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شازیہ منظور اور جگن کاظم ان الزامات پر کیا ردعمل دیتے ہیں اور آیا انڈسٹری ایسے رویوں کے خلاف کوئی مؤثر قدم اٹھاتی ہے یا نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: علیزے شاہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔