حمیرا اصغر کی موت کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

کراچی پولیس کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایس پی کلفٹن عمران جاگیرانی تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی کریں گے۔ کمیٹی میں ایس ڈی پی او ڈیفنس، اے ایس پی ندا جنید، ایس ایچ او گزری اور دیگر افسران شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے: اداکارہ حمیرا اصغر کے کیس میں اہم پیشرفت، پولیس نے موبائل فونز اور لیپ ٹاپ سے ڈیٹا حاصل کرلیا

یہ کمیٹی اداکارہ کی موت کی وجوہات کا تعین کرے گی اور روزانہ کی بنیاد پر کیس میں پیش رفت سے متعلق افسران بالا کو مطلع کرے گی۔ تحقیقاتی ٹیم ایس ایس پی ساوتھ کو جوابدہ ہوگی۔

یہ کمیٹی واقعے سے متعلق اب تک سامنے آنے والے شواہد کا جائزہ لے کر اداکارہ کی موت کی وجوہات کا تعین کرے گی۔

اس سے قبل پولیس نے اداکارہ کے زیرِ استعمال الیکٹرانک گیجٹس جن میں تین موبائل فونز، ایک ٹیبلٹ اور ایک لیپ ٹاپ شامل ہیں، کو کھول کر ان سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ شروع کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اداکارہ حمیرا اصغر: خاموش فلیٹ کی آخری کہانی

پولیس کے مطابق ان تمام ڈیوائسز کے پاسورڈز اداکارہ کی ذاتی ڈائری میں تحریر تھے، جن کی مدد سے گیجٹس کو کھولا گیا۔

پولیس حکام نے بتایا کہ کیس سے متعلق 2 افراد کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید 2 افراد کو تفتیش کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق اداکارہ جِم جاتی تھیں اور بیوٹیشن سے بھی ان کا باقاعدہ رابطہ تھا۔ پولیس نے کہا ہے کہ تفتیش کو آگے بڑھانے کے لیے اداکارہ کے جِم ٹرینر سمیت دیگر متعلقہ افراد سے بھی معاونت لی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پولیس تحقیقات کمیٹی حمیرا اصغر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پولیس تحقیقات کمیٹی کی موت کی کے لیے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف