پانی میں ڈوبنے کے خوف میں مبتلا اداکارہ حمیرا نے زیرِ آب فوٹو شوٹ کیسے کرایا
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
اداکارہ اور ماڈل حمیرا کی اندوہناک موت اور پھر تدفین کے بعد ان کی زندگی کے نئے نئے پہلو سامنے آ رہے ہیں۔
42 سالہ اداکارہ ڈرائنگ اور آرٹ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں۔ انھوں نے کئی ڈراموں میں کام کیا۔ ایک ریئلٹی شو سے شہرت حاصل کی اور فلموں میں بھی قسمت آزمائی۔
حمیرا ایک ماہر مصورہ اور مجسمہ ساز بھی تھیں۔ انھوں نے اپنے والد کی پینٹنگ بنائی تھی جسے ان کی سالگرہ پر بطور تحفہ دیا۔
اپنے ہاتھوں سے والد کی بنائی گئی پینٹنگ کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے حمیرا نے انھیں سب سے ہینڈ سم فادر اور اپنا ہیرو قرار دیا تھا۔
مصوری کے علاوہ حمیرا اصغر کو اسکائی ڈائیونگ کا بھی شوق تھا تاہم وہ پانی میں ڈوب جانے کے خوف میں مبتلا تھیں۔
اس بات کا انکشاف انھوں نے ایکسپریس نیوز کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے کیا۔
اداکارہ نے بتایا کہ بچپن میں پانی میں ڈوب گئی لیکن بروقت لوگوں نے مجھے نکال کر بچالیا تھا جس کے بعد ڈوبنے کا خوف بیٹھ گیا تھا۔
A post common by Humaira Asghar (@humairaaliofficial)
حمیرا نے مزید بتایا کہ ترکیہ میں ہونے والے ایک فیسٹیول میں انھیں مدعو کیا گیا تھا اور تھیم پانی کے اندر فوٹو شوٹ کرانا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ پانی کے اندر رہنے کے لیے مجھے اپنا خوف دور کرنا تھا جس کے لیے باقاعدہ تربیت لینا پڑی اور اس میں دو سال لگ گئے۔
ماڈل و اداکارہ حمیرا نے دو برسوں کی محنت کے بعد بالآخر میں نے وہ کام کرلیا جسے اب تک فوبیا ہونے کی وجہ سے وہ نہ کرپائی تھیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: انھوں نے
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور