اداکارہ اور ماڈل حمیرا کی اندوہناک موت اور پھر تدفین کے بعد ان کی زندگی کے نئے نئے پہلو سامنے آ رہے ہیں۔

42 سالہ اداکارہ ڈرائنگ اور آرٹ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں۔ انھوں نے کئی ڈراموں میں کام کیا۔ ایک ریئلٹی شو سے شہرت حاصل کی اور فلموں میں بھی قسمت آزمائی۔

حمیرا ایک ماہر مصورہ اور مجسمہ ساز بھی تھیں۔ انھوں نے اپنے والد کی پینٹنگ بنائی تھی جسے ان کی سالگرہ پر بطور تحفہ دیا۔

اپنے ہاتھوں سے والد کی بنائی گئی پینٹنگ کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے حمیرا نے انھیں سب سے ہینڈ سم فادر اور اپنا ہیرو قرار دیا تھا۔

مصوری کے علاوہ حمیرا اصغر کو اسکائی ڈائیونگ کا بھی شوق تھا تاہم وہ پانی میں ڈوب جانے کے خوف میں مبتلا تھیں۔

اس بات کا انکشاف انھوں نے ایکسپریس نیوز کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے کیا۔

اداکارہ نے بتایا کہ بچپن میں پانی میں ڈوب گئی لیکن بروقت لوگوں نے مجھے نکال کر بچالیا تھا جس کے بعد ڈوبنے کا خوف بیٹھ گیا تھا۔

A post common by Humaira Asghar (@humairaaliofficial)

حمیرا نے مزید بتایا کہ ترکیہ میں ہونے والے ایک فیسٹیول میں انھیں مدعو کیا گیا تھا اور تھیم پانی کے اندر فوٹو شوٹ کرانا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ پانی کے اندر رہنے کے لیے مجھے اپنا خوف دور کرنا تھا جس کے لیے باقاعدہ تربیت لینا پڑی اور اس میں دو سال لگ گئے۔

ماڈل و اداکارہ حمیرا نے دو برسوں کی محنت کے بعد بالآخر میں نے وہ کام کرلیا جسے اب تک فوبیا ہونے کی وجہ سے وہ نہ کرپائی تھیں۔

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: انھوں نے

پڑھیں:

دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب

  رانا فرحان سعید:ساہیوال کے علاقے قطب شہانہ کے مقام پر دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث قریبی علاقوں میں زرعی اراضی زیرِ آب آنا شروع ہو گئی ہے۔

مقامی زمینداروں کے مطابق گزشتہ سال ٹوٹنے والے بند کی تاحال مرمت نہ ہونے سے سیلابی پانی موضع اورنگ آباد میں داخل ہو گیا ہے۔

سیلابی پانی کے باعث سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی ہے، جبکہ 100 سے زائد ایکڑ پر کھڑی کماد، تل، مکئی اور دھان کی فصلیں زیرِ آب آ گئی ہیں۔ پانی داخل ہونے سے جانوروں کا چارہ بھی بہہ گیا، جس کے باعث کاشتکاروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی اب موضع اورنگ آباد اور موسیٰ پور کی نواحی آبادیوں کی جانب بڑھ رہا ہے، جس سے مزید علاقوں کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

زمینداروں نے الزام عائد کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی غفلت کے باعث گزشتہ سال متاثر ہونے والے بند کی بروقت مرمت نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں انہیں مسلسل دوسرے سال بھی کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

متاثرہ کاشتکاروں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے فوری حفاظتی اقدامات، بند کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت اور متاثرین کے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • کیوبا کے سفارتخانے میں فوٹو نمائش کے ذریعے فیڈل کاسترو کی صد سالہ تقریبات کا انعقاد
  • لاہور: گھر کے بیسمنٹ میں جمع بارش کے پانی میں ڈوب کر 1 شخص جاں بحق
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • زباں فہمی289؛ میں بھی رانی، تُو بھی رانی........
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا